چین کا پہلا بایومیمیٹک اے آئی روبوٹ انتہائی انسانی شکل میں متعارف
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹیکنالوجی کی دنیا میں انسان نما روبوٹس کے شعبے میں ایک اور تاریخی قدم آگے بڑھا ہے، چین کی کمپنی ڈریوڈ اپ نے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو تقریباً حقیقی انسان جیسا دکھائی دیتا ہے، روبوٹ مویا کا جسمانی درجہ حرارت 32 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے، تاکہ یہ انسانی جسم کی گرمائش کو بھی ظاہر کر سکے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مویا اب بھی مکمل طور پر انسان جیسا نہیں ہے اور دیکھ کر آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے کہ یہ ایک روبوٹ ہے، تاہم اس کی کچھ خصوصیات حیران کن اور دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لیے قدرے خوف زدہ کرنے والی بھی ہیں، اس روبوٹ کا چلنے کا انداز تقریباً 92 فیصد تک انسانوں کے جیسا ہے اور یہ انسانوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ مویا کی آنکھوں کے پیچھے نصب کیمرا اس کی بات چیت کی صلاحیت کو فعال کرتا ہے جبکہ اس میں نصب آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) اسے انسانی تاثرات کا مظاہرہ کرنے کے قابل بناتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مویا دنیا کا پہلا بایومیمیٹک اے آئی روبوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اپریل 2025 میں مویا کا پروٹوٹائپ دنیا کی پہلی روبوٹ ہاف میراتھون ریس میں کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوا، جو اس کی جسمانی فٹنس اور چلنے کی قدرتی مہارت کی علامت ہے۔
ڈریوڈ اپ کا ارادہ ہے کہ مویا کو طبی نگہداشت، تعلیم اور دیگر انسانی مددگار کاموں میں استعمال کیا جائے، تاکہ یہ انسانوں کے دوست اور ساتھی کے طور پر اپنی خدمات فراہم کر سکے۔
کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ 2026 کے دوران مویا کو مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا، اور اس کی قیمت ایک لاکھ 73 ہزار ڈالرز متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انسانوں کے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔