data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے وضاحت کی کہ سعودی ویژن 2030 کے تحت آئندہ برسوں میں پاکستانی عازمین حج کے لیے لباس یکساں رکھنے کی تجویز زیر غور ہے، یہ صرف منصوبہ بندی کی سطح پر ہے اور حتمی فیصلہ سعودی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

اجلاس میں تحریک انصاف کے رکن دنیش کمار نے وفاقی وزیر مذہبی امور پر یہ الزام لگایا کہ وزارت کے اہم معاملات دراصل ڈاکٹر توقیر شاہ انجام دے رہے ہیں اور وزیر خود بے خبر ہیں،انہیں وزارت کے امور سے الگ رکھا جاتا ہے۔

اس تناظر میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے واضح طور پر کہا کہ بطور وزیر تمام اختیارات ان کے پاس ہیں اور وزارت کے معاملات میں کوئی بے بسی نہیں ہے، یہ الزامات حقیقت کے منافی ہیں۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ حج خدمات کے لیے سعودی عرب میں دو کمپنیوں کا انتخاب کیا گیا ہے، جبکہ 1,780 حج معاونین اور میڈیکل مشن کے ارکان بھی سعودی عرب روانہ ہوں گے، پرائیویٹ حج آپریٹرز کی فہرست میں نئی کمپنیوں کی شمولیت پر پابندی نہیں ہوگی اور معیار پر پورا اترنے والوں کو آئندہ کوٹہ دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کے باعث اپوزیشن رکن علی ظفر کا فیملی لاز ایجنڈے سے ہٹانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

سردار یوسف نے اجلاس میں زور دیا کہ وزارت حج کے معاملات شفاف اور معیاری طریقے سے انجام پا رہے ہیں اور پاکستانی عازمین کے لیے سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اجلاس میں

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ