سعودی ویژن 2030 کے تحت پاکستانی عازمین حج کا لباس یکساں رکھنے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے وضاحت کی کہ سعودی ویژن 2030 کے تحت آئندہ برسوں میں پاکستانی عازمین حج کے لیے لباس یکساں رکھنے کی تجویز زیر غور ہے، یہ صرف منصوبہ بندی کی سطح پر ہے اور حتمی فیصلہ سعودی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
اجلاس میں تحریک انصاف کے رکن دنیش کمار نے وفاقی وزیر مذہبی امور پر یہ الزام لگایا کہ وزارت کے اہم معاملات دراصل ڈاکٹر توقیر شاہ انجام دے رہے ہیں اور وزیر خود بے خبر ہیں،انہیں وزارت کے امور سے الگ رکھا جاتا ہے۔
اس تناظر میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے واضح طور پر کہا کہ بطور وزیر تمام اختیارات ان کے پاس ہیں اور وزارت کے معاملات میں کوئی بے بسی نہیں ہے، یہ الزامات حقیقت کے منافی ہیں۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ حج خدمات کے لیے سعودی عرب میں دو کمپنیوں کا انتخاب کیا گیا ہے، جبکہ 1,780 حج معاونین اور میڈیکل مشن کے ارکان بھی سعودی عرب روانہ ہوں گے، پرائیویٹ حج آپریٹرز کی فہرست میں نئی کمپنیوں کی شمولیت پر پابندی نہیں ہوگی اور معیار پر پورا اترنے والوں کو آئندہ کوٹہ دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کے باعث اپوزیشن رکن علی ظفر کا فیملی لاز ایجنڈے سے ہٹانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
سردار یوسف نے اجلاس میں زور دیا کہ وزارت حج کے معاملات شفاف اور معیاری طریقے سے انجام پا رہے ہیں اور پاکستانی عازمین کے لیے سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں