پشاور، ناکہ بندی پر فائرنگ سے نوجوان جاں بحق، مطلوب اشتہاری گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پولیس کے مطابق ناکے پر موٹر کار سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم وہ فرار ہونے لگے، جس پر تعاقب کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کے علاقے حیات آباد میں ناکہ بندی کے دوران رکنے کے اشارے پر نہ رکنے والی گاڑی پر پولیس فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ناکے پر موٹر کار سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم وہ فرار ہونے لگے، جس پر تعاقب کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران طلحہٰ ولد منظور سکنہ سفید ڈھیری گولی لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ واقعے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے گاڑی سے قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمات میں مطلوب اشتہاری راضی خان ولد گل خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ ایس پی کینٹ ڈویژن عبد اللہ احسان کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔