ناصر حسین و مائیکل ایتھرٹن کی پاکستانی مؤقف کی تائید
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (صباح نیوز)انگلش ٹیم کے سابق کپتان ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن نے پاکستان اور بنگلا دیش کی حمایت کی ہے جس پر انھیں انڈیا میں تنقید کا سامنا ہے۔ناصر حسین نے ’اسکائے سپورٹس‘ کیساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں آئی سی سی کے اقدامات اور فیصلوں کو ’دہرا معیار قرار‘ دیا ہے۔ ناصر حسین کا کہنا تھا کہ ’اگر بنگلا دیش کی جگہ بھارت مقام کی تبدیلی کا مطالبہ کرتا تو آئی سی سی کیا کرتا؟ کیا آئی سی سی بھارت کو بھی ایونٹ سے باہر کر دیتا؟ آئی سی سی کو بنگلا دیش اور پاکستان کو بھی بھارت کی ہی طرح برابری سے ڈیل کرنا ہوگا۔ سابق انگلش کپتانوں کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش اپنی بات پر قائم ہے، وہ اپنے کھلاڑی کے لیے کھڑے ہوئے۔ پاکستان نے بنگلا دیش کا ساتھ دے کر اچھا کام کیا۔ کسی کو کھڑا ہو کر یہ ضرور کہنا ہوگا کہ سیاست بہت ہوئی، اب ہم کرکٹ کھیل لیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔