حج کیلیے ویزوں کا اجرا 8 فروری سے شروع ہوگا‘ سعودی عرب
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض (مانیٹر نگ ڈ یسک )سعودی وزارت حج و عمرہ کا کہنا ہے کہ حج 2026ء کے لیے ویزوں کے اجرا کا آغاز 8 فروری سے کیا جائے گا۔وزارت کے مطابق ویزوں کے اجرا کا یہ عمل معمول سے پہلے شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد حج انتظامات کو بروقت مکمل کرنا اور عازمین کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ وزارت نے بتایا کہ بیرون ملک سے آنے والے عازمین کو فراہم کی جانے والی تمام خدمات کے 100 فیصد معاہدے مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ مکہ مکرمہ میں رہائش سے متعلق تمام معاہدے نسک پلیٹ فارم کے ذریعے طے پا چکے ہیں۔سعودی وزارت حج و عمرہ کے مطابق اب تک 7 لاکھ 50 ہزار عازمین کی رجسٹریشن ہو چکی ہے جبکہ 30 ہزار عازمین نے اپنے اپنے ممالک سے براہ راست حج پیکجز بک کرالیے ہیں۔وزارت کا کہنا ہے کہ اس ابتدائی مرحلے میں ویزوں کا اجرا حج کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے جس سے انتظامات کو مزید منظم بنانے اور دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عازمین کو فراہم کی جانے والی خدمات کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔