یکجہتی کشمیر… عملی پیش رفت کی ضرورت!
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان سمیت دنیا بھر میں پانچ فروری… جمعرات کو ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ منایا گیا وطن عزیز میں اس موقع پر زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا جس کا جواز بھی ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور صرف زبانی بیان دے کر مطمئن نہیں ہو گئے تھے بلکہ عملاً اپنی اس شہ رگ کو پنجۂ ہنود سے آزادی دلانے کے لیے باقاعدہ جہاد کا آغاز بھی قائد اعظم کی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا اور اس جہاد کے نتیجے میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کہلانے والے خطے کو آزادی بھی نصیب ہوئی پھر بھارت یکم جنوری 1948ء کو یہ معاملہ عالمی استعمار کے آلہ کار اقوام متحدہ نامی ادارے میں لے گیا جس نے پاکستان اور بھارت کا موقف سننے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین جنگ بندی کروا کر معاملہ کو سرد خانے میں ڈال دیا اور پھر وقفوں وقفوں سے اقوام متحدہ میں قرار دادوں کی منظوری کا سلسلہ شروع ہو گیا جن کا لب لباب یہ تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے خطہ کشمیر میں آزادانہ و غیر جانبدارانہ رائے شماری کرائی جائے گی جس کے ذریعے کشمیر کے عوام کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے یہ فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ۔ کم و بیش اسی برس گزر چکے ہیں، آج تک کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی یہ پے در پے منظور کی جانے والی قراردادیں حق خوداردیت دلانے میں مسلسل ناکام ہیں۔ افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کی کامیابی کے بعد تحریک حریت کشمیر نے بھی ایک نئی کروٹ لی جس کے دوران ’’کشمیر بزور شمشیر‘‘ کا نعرہ مقبول ہوا اور مجاہدین کشمیر نے جرأت و بہادری کی بے مثال داستانیں رقم کیں۔ تحریک حریت کے اس دور میں سید علی گیلانی مرحوم و مغفور نمایاں قائد کے طور پر ابھرے اور ہر طرح کی قید و بند کی صعوبتیں نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے انہوں نے ’’ہم پاکستانی ہیں۔ پاکستان ہمارا ہے‘‘۔ کے نعرۂ جاں فزا کو ایک ایک کشمیری نوجوان مردو زن کی زبان پر رواں کر دیا بھارت کا ہر طرح کا ظلم و ستم سید گیلانی کو خاموش کرانے میں ناکام رہا۔ پاکستان میں اس وقت کے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کشمیر کی تحریک آزادی کی بھر پور سرپرستی کی اور ببانگ دہل دامے، درمے، سخنے اس تحریک کی تائید و حمایت کا اعلان بھی کیا اور اپنے عمل سے بھی اس کے ٹھوس شواہد پیش کیے۔ انہوں نے پاکستان کے عوام کو اس جدوجہد کی پشت پر جمع کرنے اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے جنوری 1990ء کے اوائل میں اعلان کیا کہ پانچ فروری کو عالم گیر سطح پر یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف اسلامی جمہوری اتحاد میں جماعت اسلامی کے اتحادی تھے چنانچہ انہوں نے قاضی صاحب کے اس اعلان کی تائید میں پانچ فروری کو صوبہ بھر میں عام تعطیل اور سرکاری طور پر یہ دن منانے کا اعلان کر دیا۔ وفاق میں اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں۔ تحریک آزادی کشمیر کی زبردست عوامی مقبولیت کے پیش نظر وہ بھی قاضی حسین احمد مرحوم کے ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ کے اعلان سے لاتعلق نہ رہ سکیں اور انہوں نے بھی اس دن کو ملک بھر میں سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کر دیا۔ قاضی حسین احمد نے دنیا بھر کی آزادی اور حقوق انسانی کی تنظیموں خصوصاً مختلف ممالک میں موجود اسلامی تحریکوں سے بھی پانچ فروری کا دن ’’یوم کشمیر‘‘ کے طور پر منانے کی اپیل کی جس کا ان تحریکوں نے نہایت بھر پور جواب دیا اور یوں پانچ فروری ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ پاکستان میں اور بین الاقوامی سطح پر بھی کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی اور حق خود ارادیت کی تائید و حمایت کا استعارہ قرار پایا۔ اب یہ دن ہر سال سرکاری سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور اس دن ملک کے کونے کونے میں شہروں، قصبات اور دیہات میں چھوٹی بڑی سیاسی اور دینی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں اپنے کشمیری بھائیوں اور ان کی جدوجہد آزادی سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسوں، جلوسوں، ریلیوں اور سیمیناروں وغیرہ کا اہتمام کرتی ہیں، ان میں اس عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ کشمیر کی آزادی تک پاکستانی قوم چین سے نہیں بیٹھے گی اور اپنی شہ رگ کو دشمن کے پنجۂ استبداد سے نجات دلانے کے لیے کسی بھی طرح کی جانی و مالی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا کیونکہ کشمیری مسلمان صرف اپنی آزادی و خود مختاری کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ در حقیقت ان کی یہ جدوجہد پاکستان کی بقا و سلامتی کی جنگ ہے اور پاکستانی عوام کی ترقی و خوشحالی براہ راست اس جدوجہد کی کامیابی سے وابستہ ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن و سلامتی اور علاقائی استحکام کا انحصار کشمیر کے اس دیرینہ مسئلہ کے مستقل بنیادوں پر حل میں مضمر ہے۔ اس میں شک نہیں کہ حکومتی سطح پر ہر برس پانچ فروری کو ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ منانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سرکاری طور پر اس روز سیمینارز وغیرہ کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے بھی اس مسئلہ کی اہمیت کو اُجاگر کیا جاتا ہے مگر دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت کی ذمے داری فقط سال میں ایک روز سرکاری طور پر تعطیل کا اعلان کر دینے اور لگے بندھے طریقوں پر چند پروگرام منعقد کر دینے سے قطعاً پوری نہیں ہوتی۔ حکومت کی ذمے داریاں اس سے کہیں بڑھ کر ہیں کیونکہ بھارت کی انتہا پسند حکومت کشمیر کے مسلمانوں کے گرد ظلم کا پھندہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سخت سے سخت کرتی چلی جا رہی ہے اور تحریک حریت کے کارکنوں اور قائدین کی زندگی مقبوضہ کشمیر میں محال کر دی گئی ہے۔ بھارتی حکومت نے پانچ اگست 2019ء کو ایک بڑے اور فیصلہ کن اقدام کے ذریعے اپنے مقبوضہ کشمیری خطے کی جداگانہ ریاست کی حیثیت ختم کرنے کے لیے بھارتی آئین میں ترمیم کر کے دفعات 370 اور 35 اے منسوخ کر دی ہیں اور کشمیر کے مسلمانوں کو حاصل بہت سے امتیازی حقوق سلب کر کے بھارتی حکومت کو مقبوضہ ریاست میں ہر قسم کی مداخلت اور دیگر ریاستوں کے بھارتی شہریوں کو کشمیر میں مساوی حقوق دے دیے گئے ہیں۔ بھارتی حکومت کے اس جارحانہ اقدام پر پاکستان کی جانب سے جس قدر سخت رد عمل کی توقع کی جا رہی تھی وہ سامنے نہیں آیا جس سے کشمیری عوام میں مایوسی کی لہر نے بھی جنم لیا ہے۔ کشمیر پر عالمی برادری کی بے حسی اور خاموشی میں بھی پاکستانی حکومت کے اس سرد مہری پر مبنی طرز عمل کے سبب اضافہ ہوا ہے اور عالمی سطح پر حل طلب مسائل میں کشمیر خاصا نیچے جا چکا ہے اور عالمی رائے عامہ بڑی حد تک اسے فراموش کر چکی ہے۔ ان حالات میں اگر پاکستانی حکمران واقعی اپنی شہ رگ کو دشمن کے قبضہ سے آزاد کرانے میں سنجیدہ ہوں تو انہیں پانچ فروری کو محض ایک سالانہ رسمی حیثیت دینے کے بجائے مسئلہ کے حل اور اسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کو خواب خرگوش سے جگا کر ماضی کی طرح ایک موثر اور فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا ہو گا خصوصاً گزشتہ برس مئی کی پاکستان اور بھارت کی چندروزہ جنگ میں وطن عزیز کو حاصل ہونے والی شاندار فتح کو بھی کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو ثمر آور کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ پانچ فروری کا تقاضا ہے کہ ہم بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں دہائیوں سے آزادی کا علم تھامے اپنے کشمیری بھائیوں سے اپنا عہد وفا کرتے ہوئے کشمیر کی آزادی کے لیے ٹھوس عملی اقدامات بروئے کار لائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یوم یکجہتی کشمیر پانچ فروری کو کرنے کے لیے کی ا زادی کشمیر کے کا اعلان کشمیر کی انہوں نے جاتا ہے سے بھی ہے اور
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔