WE News:
2026-07-24@05:03:31 GMT

کیا گولڈ مارکیٹ مزید کریش ہوسکتی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

کیا گولڈ مارکیٹ مزید کریش ہوسکتی ہے؟

عالمی اور مقامی سطح پر سونے کی منڈی میں حالیہ دنوں ایک غیر معمولی شدید مندی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس اچانک گراوٹ نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام خریداروں کو بھی حیران کر دیا ہے، بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ کے اثرات مقامی مارکیٹ تک منتقل ہوئے، جہاں فی تولہ سونا واضح طور پر سستا ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا 2026 میں گولڈ کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے؟

واضح رہے کہ 29 جنوری 2026 کو پاکستان میں فی تولہ گولڈ کی قیمت تقریباً 5 لاکھ 72 ہزار روپے تھی۔ 30 جنوری کو فی تولہ گولڈ کی قیمت میں 35 ہزار 500 روپے کی کمی ہوئی۔

31 جنوری کو پھر سے گولڈ کی قیمت میں 10 ہزار روپے کمی ہوئی، مسلسل کمی کے ساتھ 2 فروری کو فی تولہ گولڈ تقریباً 4 لاکھ 90 ہزار روپے پر آ گیا، جس کے بعد 3 فروری کو فی تولہ گولڈ کی قیمت 13 ہزار 700 روپے اضافے کے ساتھ 5 لاکھ 4 ہزار روپے ہو گئی۔

اس ساری صورتحال میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آیا سونے کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے یا یہ مندی عارضی ثابت ہو گی؟ اور اب پھر گولڈ کی قیمت بڑھتی ہوئی نظر آئے گی۔

’اثر وقتی طور پر سونے کی قیمتوں پر پڑسکتا ہے‘

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی ماہر راجہ کامران کے مطابق سونے کی طلب اس وقت عالمی منڈی میں مختلف اسباب کی بنا پر برقرار ہے، دنیا کے بڑے مرکزی بینک بتدریج امریکی ڈالر پر انحصار کم کر رہے ہیں اور سونے کو ایک محفوظ ذریعۂ سرمایہ کاری کے طور پر اپنا رہے ہیں، جس میں چین اور بھارت پیش پیش ہیں۔

’آنے والے دنوں میں سونا ایک مضبوط اور مستحکم سرمایہ کاری کے طور پر سامنے آتا دکھائی دے رہا ہے‘

انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت چین اور یورپ میں تعطیلات کا موسم جاری ہے، جس کا اثر وقتی طور پر سونے کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ سونے کی صنعتی طلب بھی ایک اہم عنصر ہے، جو قیمتوں کو سہارا دیتی ہے۔ مجموعی طور پر آنے والے دنوں میں سونا ایک مضبوط اور مستحکم سرمایہ کاری کے طور پر سامنے آتا دکھائی دے رہا ہے۔

’بڑے ادارے سونے کی خریداری عارضی طور پر روک دیتے ہیں‘

راجہ کامران کا کہنا ہے کہ بعض اوقات بڑے ادارے اپنی سرمایہ کاری کو منظم کرنے، ذخائر کا جائزہ لینے اور مالی توازن قائم کرنے کے لیے عارضی طور پر سونے کی خریداری روک دیتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں خریدار کم ہو جاتے ہیں اور قیمتوں میں وقتی کمی آتی ہے۔ ان کے مطابق نئے سال کے آغاز پر اس طرح کی عارضی اصلاح ایک فطری عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا چاندی ’گولڈ مارکیٹ‘ کی جگہ لے سکتی ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر تنازعات میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ایران سے متعلق کشیدگی، یورپ اور امریکا کے درمیان اختلافات، مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام، غذائی تحفظ کے مسائل اور جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان کے گرد و نواح میں بڑھتی ہوئی کشیدگی جیسے عوامل سونے کی قیمت کو سہارا دے رہے ہیں۔

راجہ کامران کے مطابق حالیہ کمی دراصل ایک عارضی اصلاح ہے، کیونکہ مارکیٹ میں پوزیشن حد سے زیادہ مضبوط ہو چکی تھی اور بعض سرمایہ کار زیادہ قرض کے ذریعے سرمایہ کاری کر رہے تھے، جس کے باعث انہوں نے اپنی پوزیشنز کو متوازن کرنے کے لیے خریداری عارضی طور پر روک دی۔

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی، عمارت کے ملبے سے 70 تولہ سونا برآمد، مالک کے حوالے کردیا گیا

تاہم ان کا ماننا ہے کہ سونے کی قیمت کا مجموعی رجحان آئندہ دنوں میں بھی اوپر کی جانب ہی رہے گا، البتہ حد سے زیادہ تیزی کو روکنے کے لیے بعض اوقات مارکیٹ میں دانستہ وقفہ پیدا کیا جاتا ہے تاکہ اچانک مالی جھٹکوں سے بچا جا سکے۔

سونے کی قیمتوں میں جو کمی دیکھی گئی، وہ دراصل ایک صحت مند اور ضروری اصلاح تھی

کراچی صرافہ مارکیٹ کے رکن عبداللہ چاند کے مطابق دسمبر سے جنوری تک سونے کی قیمتوں میں مسلسل اور یک طرفہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جس دوران کسی نمایاں گراوٹ یا مندی کا رجحان سامنے نہیں آیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب مارکیٹ ایک طویل عرصے تک صرف ایک ہی سمت میں حرکت کرے تو وہاں ایک صحت مند اصلاح ناگزیر ہو جاتی ہے، جس کی طلب مارکیٹ خود کرنے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریکارڈ اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی، فی تولہ کتنا سستا ہوا؟

عبداللہ چاند کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں جو کمی دیکھی گئی، وہ دراصل ایک صحت مند اور ضروری اصلاح تھی، جس کی مارکیٹ کو شدید ضرورت تھی، اور یہ اصلاح مختصر عرصے، یعنی دو سے تین دن میں واضح طور پر دیکھنے میں بھی آ گئی۔

’اس وقت سونے کی قیمتوں میں کسی بڑی یا طویل مدتی کمی کا امکان نظر نہیں آتا‘

انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت سونے کی قیمتوں میں کسی بڑی یا طویل مدتی کمی کا امکان نظر نہیں آتا، کیونکہ عالمی سطح پر کوئی ایسی غیر متوقع خبر یا منفی پیش رفت سامنے نہیں آئی جو مارکیٹ کو نیچے کی جانب دھکیل سکے۔ موجودہ حالات میں مندی کے بجائے استحکام کا رجحان زیادہ غالب دکھائی دیتا ہے۔

عبداللہ چاند کے مطابق مجموعی تجزیے اور مارکیٹ کے موجودہ رویّے کو مدنظر رکھا جائے تو آئندہ عرصے میں سونے کی قیمتوں کے مزید بڑھنے کے امکانات موجود ہیں، اور اگر حالات اسی طرح رہے تو بین الاقوامی منڈی میں سونے کی قیمت چھ ہزار ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان چاندی راجہ کامران سرمایہ کار سونا سستا صرافہ مارکیٹ گولڈ مارکیٹ مہنگائی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان چاندی راجہ کامران سرمایہ کار سونا سستا صرافہ مارکیٹ گولڈ مارکیٹ مہنگائی سونے کی قیمتوں میں میں سونے کی قیمت گولڈ کی قیمت یہ بھی پڑھیں راجہ کامران سرمایہ کاری پر سونے کی ہزار روپے انہوں نے منڈی میں کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ