لاہور: بسنت فیسٹیول پر ریسکیو 1122 کا ایمرجنسی پلان مرتب
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 نے بسنت فیسٹیول کے موقع پر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے 6 سے 8 فروری تک خصوصی ایمرجنسی پلان مرتب کر لیا۔
ریسکیو 1122 لاہور کے مطابق شہر بھر میں 1200 سے زائد ریسکیور، 56 ایمبولینسز، 24 فائر وہیکل اور 300 ریسکیو موٹر بائیکس مختلف اہم مقامات پر تعینات کی جائیں گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کے مطابق لاہور میں قائم 23 ریسکیو سٹیشنز کے ساتھ ساتھ شہر کے مختلف علاقوں میں 180 خصوصی کی پوائنٹس بنائے گئے ہیں، جہاں ایمرجنسی ایمبولینسز، فائر وہیکلز اور ریسکیو موٹر بائیکس ہمہ وقت موجود رہیں گی، تنگ گلیوں اور ٹریفک کے رش میں بروقت رسائی کے لیے ریسکیو موٹر بائیکس کو خصوصی کی پوائنٹس پر تعینات کیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق والڈ سٹی، مزنگ، اچھرہ، شاد باغ اور داتا دربار کے علاقوں میں بھی خصوصی ریسکیو ٹیمیں تعینات کی جا رہی ہیں جبکہ کسی بڑی ایمرجنسی کی صورت میں قریبی اضلاع سے فوری بیک اپ ریسکیو ٹیمیں بھی دستیاب ہوں گی۔
ترجمان ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ بسنت فیسٹیول کے دوران ریسکیو و میڈیکل کور کے خصوصی انتظامات کے ساتھ ساتھ روٹین ریسکیو آپریشنز بھی معمول کے مطابق جاری رہیں گے، اس دوران صوبائی ایمرجنسی آپریشن سنٹر اور ضلعی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر لاہور تمام ریسکیو سرگرمیوں کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ریسکیو 1122 کے مطابق
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.