امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات آج کچھ ہی دیر میں مسقط (عمان) میں شروع ہونے والے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات صرف امریکا اور ایران کے درمیان ہو رہے ہیں، جن میں پاکستان سمیت کسی دوسرے ملک کی شرکت نہیں ہو گی۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عمان میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان یا دیگر علاقائی ممالک کو شامل نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی دعوت یافتہ بعض ممالک کی مذاکرات میں شرکت پر اعتراض کیا تھا، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ یہ بات چیت دوطرفہ سطح پر ہی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکا کی نمائندگی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکاف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔ مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بات چیت ہے۔

قبل ازیں  پاکستان کے دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان استنبول (ترکی) میں متوقع مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان ان مذاکرات کا مقصد جوہری اور علاقائی امور پر تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ آگے بڑھانا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ بات چیت مئی 2023 سے معطل تھی، جسے دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

علاقائی ممالک کو دعوت مگر ایران محتاط

علاقائی سفارتی ذرائع کے مطابق مجوزہ استنبول مذاکرات میں سعودی عرب، قطر، عمان، پاکستان، مصر اور متحدہ عرب امارات کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

ایرانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ان مذاکرات کے حوالے سے نہ زیادہ پُرامید ہے اور نہ ہی مایوس، اور یہ بات چیت اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا امریکہ واقعی سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے یا نہیں۔

ایرانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ دفاعی تیاریوں پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو گی اور ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا اور ایران کے درمیان ذرائع کے مطابق مذاکرات میں بات چیت

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟