تحریک عدم اعتماد کے ذریعے قابض میئر کو بھاگنے پر مجبور کریں گے، منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
کراچی:
امیر جماعت اسلامی بہت جلد تحریک عدم اعتماد کے ذریعے قابض میئر کو بھاگنے پر مجبور کریں گے، مسلم ن سمیت سمیت سٹی کونسل میں موجود تمام جماعتوں سے رابطے جاری ہیں۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کے شہری ظالم سندھ حکومت سے جینے کا حق چاہتے ہیں جو 17 سال سے لوگوں کو انکا حق دینے کو تیار نہیں ہے، شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کے بعد سندھ حکومت میں کھلبلی مچی ہوئی، چار گھنٹے کے مارچ سے حکمرانوں کی چیخیں نکل گئیں، کبھی وزیراعلیٰ سندھ، کبھی وزیر داخلہ اور کبھی قابض میئر مرتضیٰ وہاب پریس کانفرنسیں کررہے ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ انہیں پریشانی ہے کہ شاہراہ فیصل کیوں بند کی لیکن جس طرح پورا شہر کھنڈر بنا ہوا ہے وہ نظر نہیں آتا، یونیورسٹی روڈ، جہانگیر روڈ، کریم آباد سمیت پورا شہر تباہی کا منظر پیش کررہا ہے۔ شہر میں حکمرانوں نے کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ وزیر داخلہ دھمکی دیتے ہیں کہ ہم سختی کریں گے اور دہشت گردی کی دفعات لگائیں گے، آپ اپنا یہ شوق بھی پورا کرلیں لیکن آپ کو کراچی کو جینے کا حق دینا ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب سندھ پر قابض سسٹم کا ماؤتھ پیس ہیں۔ سندھ حکومت کہیں کچے اور کہیں پکے ڈاکوؤں کی سرپرستی کررہی ہے، شہر کے لوگوں کو ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، رواں سال ڈکیتی مزاحمت پر گیارہ لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا گل پلازہ کے متاثرین ابھی تک اسپتالوں اور ڈی سی آفس کے دھکے کھارہے ہیں، جس ظلم کا کراچی کے لوگ سامنا کررہے ہیں اس پر خاموش نہیں رہا جاسکتا، وزیر اعظم کو کراچی سے کوئی غرض نہیں، گل پلازہ سانحے کے بعد وزیراعظم کو کراچی آنے کی توفیق نہیں ہوئی، گزشتہ سال شہباز شریف صرف ایک بار کراچی آئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 8 فروری 2024 کو انتخابی دھاندلی تاریخ رقم کی گئی اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، نہ صرف پورے پاکستان اور کراچی میں ایسے لوگوں کو مسلط کیا گیا جنہیں عوام نے مکمل مسترد کردیا تھا، 15 سیٹیں ایم کیو ایم اور سات سیٹیں پیپلز پارٹی کے حوالے کردی گئیں جو اُس نے خواب میں بھی نہیں سوچی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سارا کھلواڑ الیکشن کمیشن نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر کیا، دو سال بعد بھی الیکشن ٹربیونلز میں کیسز چل رہے ہیں، 8 فروری کو الیکشن کمیشن کے باہر عوامی پریس کانفرنس کی جائے گی، 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر عظیم الشان دھرنا ہوگا، یہ اپنے ایف آئی آر کے شوق پورے کرلیں، لیکن ہم ان حکمرانوں کو آئینہ دکھاتے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل