ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تناؤ قابو سے باہر ہوا تو پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے تنازعے کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر اردوان نے مصر کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور ایرانی قیادت کی سطح پر بات چیت انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عمان میں نچلی سطح کے جوہری مذاکرات متوقع ہیں۔

اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سفارتی سرگرمیاں بڑھائی ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف اس بات پر ہے کہ واشنگٹن مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران صرف جوہری پروگرام پر بات کرنے پر آمادہ ہے۔ اس اختلاف کے باعث دونوں ممالک ایک دوسرے کو فضائی حملوں کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

ٹرمپ کی خامنہ ای کو ایک بار پھر کھلی وارننگ، ’ایران کو فکرمند ہونا ہوگا‘

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں ایران کی اعلیٰ قیادت کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “سنگین نتائج” سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی ایران پر زور دیا ہے کہ وہ سنجیدگی سے مذاکرات میں شامل ہو اور اپنا جوہری پروگرام روکے۔ انہوں نے خطے میں ممکنہ فوجی تصادم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

خطے میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہے کیونکہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے، جس میں ہزاروں فوجی، جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ علاقائی ممالک ایک بڑی جنگ کے خدشے کے پیش نظر سفارتی حل کے خواہاں ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور ایران ایران کے

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی