امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کو روکنے کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں، ترکیہ صدر
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تناؤ قابو سے باہر ہوا تو پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے تنازعے کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر اردوان نے مصر کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور ایرانی قیادت کی سطح پر بات چیت انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عمان میں نچلی سطح کے جوہری مذاکرات متوقع ہیں۔
اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سفارتی سرگرمیاں بڑھائی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف اس بات پر ہے کہ واشنگٹن مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران صرف جوہری پروگرام پر بات کرنے پر آمادہ ہے۔ اس اختلاف کے باعث دونوں ممالک ایک دوسرے کو فضائی حملوں کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں۔
مزید پڑھیںٹرمپ کی خامنہ ای کو ایک بار پھر کھلی وارننگ، ’ایران کو فکرمند ہونا ہوگا‘
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں ایران کی اعلیٰ قیادت کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “سنگین نتائج” سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی ایران پر زور دیا ہے کہ وہ سنجیدگی سے مذاکرات میں شامل ہو اور اپنا جوہری پروگرام روکے۔ انہوں نے خطے میں ممکنہ فوجی تصادم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
خطے میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہے کیونکہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے، جس میں ہزاروں فوجی، جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ علاقائی ممالک ایک بڑی جنگ کے خدشے کے پیش نظر سفارتی حل کے خواہاں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔