مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
ریاض احمدچودھری
مقبوضہ کشمیر میں فوجی لاک ڈاؤن اور آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل کرنے کے غیر قانونی اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں ہیں، بھارتی جارحیت علاقائی سلامتی کیلئے مستقل خطرہ ہے، بھارتی حکومت کی بیان بازی، دشمنی پر مبنی اقدامات علاقائی سلامتی کے لئے مستقل خطرہ ہے ، پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے،۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزیاں ہیں۔ مسلح افواج مقبوضہ کشمیر کے شہداء کو عظیم قربانیوں پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتی ہے، پاکستان کی مسلح افواج کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور انسانی ہمدردی کی فراہمی کی جدوجہد میں مکمل حمایت کا اظہار کرتی ہے۔مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
کشمیر میں بیرونی ہندوؤں کی آباد کاری کا ریلہ بھی چھوڑ دیا گیا۔ نئے ڈومیسائل لاء کے تحت 4.
آر ایس ایس بھارت کو ہندو راشٹرا بنانے پر تْلی بی جے پی کافی عرصے سے لاکھوں ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔5لاکھ کشمیری پنڈتوں کیلئے اسرائیل کی طرز پر الگ کالونیاں بنائی جا رہی ہیں۔ایک طرف کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کا گھناؤنا منصوبہ حرکت میں آچکا ہے۔ دوسری طرف شہریت کے امتیازی قانون سے لاکھوں مسلمانوں کو ہندوستان میں ریاستی تحفظ سے محروم کر دیا گیاہے۔آرٹیکل 35ـAکے خاتمے کے بعد اب غیر کشمیریوں پر مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید نے پر کوئی رکاوٹ نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اونے پونے داموں جائیداد خریدنے کی دوڑ میں ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج بھی شامل ہے۔
اسرائیل کی طرز پر پورے مقبوضہ کشمیر کو گیریڑن سٹی بنانے کی سازش بھی دْنیا کے سامنے ہے۔ محبوبہ مْفتی نے بھی جنوری 2018ئ میں بھارتی فوج کی قبضہ گیری کے خلاف ا?واز اْٹھائی تھی۔ زمین کی خریداری کی اجازت دے کر مقبوضہ کشمیر پر ہندو سرمایہ داروں کے قبضے کا راستہ ہموار کر دیا گیا۔ مقامی لوگوں کی زمینیں ضبط اور نیلام کی جا رہی ہیں۔مودی حکومت کی آبادیاتی تبدیلیوں کی مبینہ ریاستی پالیسی کا دائرہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے بعد اب آسام کے قبائلی علاقوںتک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قبائلی عوام کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔
بھارتی اخبار دی ہندوکے مطابق آسام کے قبائلی اضلاع کاربی انگ لونگ اور کھیرونی میں زمین کے تنازعے پر پرتشدد مظاہرے جاری ہیں، جن کے دوران مقامی ہندو مظاہرین میں کئی ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہیں۔کاربی قبائلی عوام کا موقف ہے کہ Village Grazing Reserves اور Professional Grazing Reserves وہ سرکاری زمینیں تھیں جو قبائل اور ان کے مویشیوں کے لیے مخصوص کی گئی تھیں، تاہم گزشتہ کئی برسوں کے دوران مختلف علاقوں سے آنے والے غیر مقامی اور غیر قبائلی آبادکاروں نے ان زمینوں پر قبضہ جما لیا۔ اس صورتحال سے مقامی قبائل کے معاشی وسائل، ثقافتی تشخص اور آبادیاتی توازن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ زرعی اور کاروباری زمینوں سے غیر مقامی افراد کو فوری طور پر بے دخل کیا جائے۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر مودی حکومت نے آسام کے متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔ یہ علاقہ بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت قائم کاربی انگلانگ خودمختار کونسل (KAAC) کے زیرِ انتظام ہے، تاہم کونسل کی جانب سے جاری بے دخلی نوٹسز کو غیر قبائلی آبادکاروں نے عدالت میں چیلنج کر کے عملدرآمد رکوادیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کاربی انگلانگ اور ویسٹ کاربی انگلانگ میں حالیہ تشدد محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ یہ بحران مودی حکومت کی طویل عرصے سے جاری آبادیاتی تبدیلی (Demographic Engineering) کی پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا عملی مظاہرہ اس سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں دیکھا جا چکا ہے، جہاں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل حقوق، زمین کی خرید و فروخت اور سرکاری ملازمتوں تک رسائی دی گئی۔
یہ علاقہ بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت کاربی انگ لانگ خودمختار کونسل (KAAC) کے زیر انتظام ہے، تاہم کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے بے دخلی نوٹسز کو غیر قبائلی آبادکاروں نے عدالت میں چیلنج کر دیا، جس کے باعث ان پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔ کاربی انگ لانگ اور ویسٹ کاربی انگ لانگ میں ہونے والا تشدد محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ یہ مودی حکومت کی طویل المدتی آبادیاتی تبدیلی (Demographic Engineering) کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ تجزیہ کار آسام کی صورتحال کا موازنہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں سے کر رہے ہیں۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی داخلی پالیسی مسلم، قبائلی اور دیگر کمزور طبقات کے علاقوں میں آبادیاتی توازن بدلنے کی کوششوں پر مبنی ہے، جس کے اثرات اب کشمیر کے بعد آسام اور شمال مشرقی بھارت کے دیگر قبائلی علاقوں میں بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: مودی حکومت کی کاربی انگ دیا گیا کے بعد
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔