Juraat:
2026-07-24@10:31:17 GMT

مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل

ریاض احمدچودھری

مقبوضہ کشمیر میں فوجی لاک ڈاؤن اور آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل کرنے کے غیر قانونی اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں ہیں، بھارتی جارحیت علاقائی سلامتی کیلئے مستقل خطرہ ہے، بھارتی حکومت کی بیان بازی، دشمنی پر مبنی اقدامات علاقائی سلامتی کے لئے مستقل خطرہ ہے ، پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے،۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزیاں ہیں۔ مسلح افواج مقبوضہ کشمیر کے شہداء کو عظیم قربانیوں پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتی ہے، پاکستان کی مسلح افواج کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور انسانی ہمدردی کی فراہمی کی جدوجہد میں مکمل حمایت کا اظہار کرتی ہے۔مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
کشمیر میں بیرونی ہندوؤں کی آباد کاری کا ریلہ بھی چھوڑ دیا گیا۔ نئے ڈومیسائل لاء کے تحت 4.

2ملین سے زائد لوگوں کو کشمیر کا ڈومیسائل دے دیا گیا۔ لاکھوں مزید غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گورکھا کمیونٹی کے 6600ریٹائرڈ فوجیوں کو بھی ڈومیسائل دے دیا گیا۔ ڈومیسائل جاری کرنے کا اختیار تحصیلدار کو حاصل ہے۔ اب ہزاروں باہر سے آئے مزدوربھی ڈومیسائل حاصل کر سکیں گے۔ لاکھوں مقامی کشمیریوں کو بے گھر اور بے زمین کرنے کا گھناؤنا منصوبہ جاری ہے۔
آر ایس ایس بھارت کو ہندو راشٹرا بنانے پر تْلی بی جے پی کافی عرصے سے لاکھوں ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔5لاکھ کشمیری پنڈتوں کیلئے اسرائیل کی طرز پر الگ کالونیاں بنائی جا رہی ہیں۔ایک طرف کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کا گھناؤنا منصوبہ حرکت میں آچکا ہے۔ دوسری طرف شہریت کے امتیازی قانون سے لاکھوں مسلمانوں کو ہندوستان میں ریاستی تحفظ سے محروم کر دیا گیاہے۔آرٹیکل 35ـAکے خاتمے کے بعد اب غیر کشمیریوں پر مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید نے پر کوئی رکاوٹ نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اونے پونے داموں جائیداد خریدنے کی دوڑ میں ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج بھی شامل ہے۔
اسرائیل کی طرز پر پورے مقبوضہ کشمیر کو گیریڑن سٹی بنانے کی سازش بھی دْنیا کے سامنے ہے۔ محبوبہ مْفتی نے بھی جنوری 2018ئ میں بھارتی فوج کی قبضہ گیری کے خلاف ا?واز اْٹھائی تھی۔ زمین کی خریداری کی اجازت دے کر مقبوضہ کشمیر پر ہندو سرمایہ داروں کے قبضے کا راستہ ہموار کر دیا گیا۔ مقامی لوگوں کی زمینیں ضبط اور نیلام کی جا رہی ہیں۔مودی حکومت کی آبادیاتی تبدیلیوں کی مبینہ ریاستی پالیسی کا دائرہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے بعد اب آسام کے قبائلی علاقوںتک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قبائلی عوام کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔
بھارتی اخبار دی ہندوکے مطابق آسام کے قبائلی اضلاع کاربی انگ لونگ اور کھیرونی میں زمین کے تنازعے پر پرتشدد مظاہرے جاری ہیں، جن کے دوران مقامی ہندو مظاہرین میں کئی ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہیں۔کاربی قبائلی عوام کا موقف ہے کہ Village Grazing Reserves اور Professional Grazing Reserves وہ سرکاری زمینیں تھیں جو قبائل اور ان کے مویشیوں کے لیے مخصوص کی گئی تھیں، تاہم گزشتہ کئی برسوں کے دوران مختلف علاقوں سے آنے والے غیر مقامی اور غیر قبائلی آبادکاروں نے ان زمینوں پر قبضہ جما لیا۔ اس صورتحال سے مقامی قبائل کے معاشی وسائل، ثقافتی تشخص اور آبادیاتی توازن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ زرعی اور کاروباری زمینوں سے غیر مقامی افراد کو فوری طور پر بے دخل کیا جائے۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر مودی حکومت نے آسام کے متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔ یہ علاقہ بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت قائم کاربی انگلانگ خودمختار کونسل (KAAC) کے زیرِ انتظام ہے، تاہم کونسل کی جانب سے جاری بے دخلی نوٹسز کو غیر قبائلی آبادکاروں نے عدالت میں چیلنج کر کے عملدرآمد رکوادیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کاربی انگلانگ اور ویسٹ کاربی انگلانگ میں حالیہ تشدد محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ یہ بحران مودی حکومت کی طویل عرصے سے جاری آبادیاتی تبدیلی (Demographic Engineering) کی پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا عملی مظاہرہ اس سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں دیکھا جا چکا ہے، جہاں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل حقوق، زمین کی خرید و فروخت اور سرکاری ملازمتوں تک رسائی دی گئی۔
یہ علاقہ بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت کاربی انگ لانگ خودمختار کونسل (KAAC) کے زیر انتظام ہے، تاہم کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے بے دخلی نوٹسز کو غیر قبائلی آبادکاروں نے عدالت میں چیلنج کر دیا، جس کے باعث ان پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔ کاربی انگ لانگ اور ویسٹ کاربی انگ لانگ میں ہونے والا تشدد محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ یہ مودی حکومت کی طویل المدتی آبادیاتی تبدیلی (Demographic Engineering) کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ تجزیہ کار آسام کی صورتحال کا موازنہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں سے کر رہے ہیں۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی داخلی پالیسی مسلم، قبائلی اور دیگر کمزور طبقات کے علاقوں میں آبادیاتی توازن بدلنے کی کوششوں پر مبنی ہے، جس کے اثرات اب کشمیر کے بعد آسام اور شمال مشرقی بھارت کے دیگر قبائلی علاقوں میں بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: مودی حکومت کی کاربی انگ دیا گیا کے بعد

پڑھیں:

ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی

ملک بھر میں مون سون کا سلسلہ برقرار ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا۔

پیش گوئی کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے۔ خیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

Hours of torrential rain have triggered severe flooding in Lahore, submerging thousands of homes and affecting millions in Pakistan’s second-largest city. The extreme monsoon weather has caused widespread damage, according to emergency services. Residents say it is the worst… pic.twitter.com/IYCbDSEg9Y

— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) July 22, 2026

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے۔ سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے جبکہ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر میں سیلابی ریلوں سے 6 افراد جاں بحق، ریسکیو 1122 کا بڑا آپریشن مکمل

ادھر قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے بھی مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ تیز بارش، آندھی یا گرج چمک کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

این ڈی ایم اے بارش پاکستان سیلاب محکمہ موسمیات

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا