امریکی فوج کا مشرقی بحرالکاہل میں منشیات بردار کشتی پر حملہ، 2 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی بحرالکاہل میں ایک اور کشتی کو نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر منشیات لے کر جا رہی تھی، اس کارروائی میں 2 افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق یہ کشتی نامزد دہشت گرد تنظیموں کے زیرِ انتظام تھی اور منشیات اسمگلنگ کے معروف راستوں پر سفر کر رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:
امریکی افواج ستمبر سے اب تک کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں اُن بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جن پر منشیات اسمگل کرنے کا شبہ ہے۔
اس دوران کم از کم 38 مہلک حملے کیے جا چکے ہیں جن میں 128 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
‼️????????The US military struck an alleged drug trafficking boat in the eastern Pacific on Feb 5, killing two suspected narco traffickers, according to US Southern Command.
— Defense Intelligence (@DI313_) February 6, 2026
ٹرمپ انتظامیہ نے ان کارروائیوں کو ایک غیر بین الاقوامی مسلح تنازع کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان کا جواز پیش کیا ہے، جس کا مقصد لاطینی امریکا سے امریکا آنے والی منشیات کے بہاؤ کو روکنا ہے۔
امریکی سدرن کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس کارروائی میں امریکی فوجی اہلکار محفوظ رہے اور کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔
جمعرات کا یہ حملہ رواں سال کا دوسرا حملہ ہے۔ جنوری کے اوائل میں امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیے جانے کے بعد ان حملوں کی رفتار میں واضح کمی آئی ہے۔
مزید پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نکولس مادورو پر منشیات اسمگلنگ گروہوں کے ساتھ کام کرنے کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔
گزشتہ سال کے اختتامی مہینوں میں چار ماہ کے دوران کم از کم 36 حملے کیے گئے تھے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق اس آپریشن سدرن اسپیئر کا مقصد خطے سے نارکو دہشت گردوں کا خاتمہ اور امریکا کو ان منشیات سے محفوظ بنانا ہے جو مقامی لوگوں کو ہلاک کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:
تاہم بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے غیر قانونی ہو سکتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
کیونکہ ان میں شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مشتبہ افراد کو کسی قسم کا قانونی عمل فراہم نہیں کیا جاتا۔
14 اکتوبر کے ایک حملے میں مارے جانے والے ٹرینیڈاڈ کے 2 شہریوں کے اہلِ خانہ نے بعد ازاں امریکی حکومت کیخلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔
جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ’سفاک، غیر قانونی، محض تفریح اور نمائش کے لیے کیے گئے قتل‘ کے مترادف تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن سدرن اسپیئر پیٹ ہیگستھ وزیر دفاع وینزویلا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آپریشن سدرن اسپیئر پیٹ ہیگستھ وزیر دفاع وینزویلا
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔