اپنے بیان میں اسلام آباد کی مسجد میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم رہنماء سہیل اکبر شیرازی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کی جان و مال کے تحفظ میں اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے رہنماء سہیل اکبر شیرازی نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خوفناک دہشتگردانہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بزدلانہ اور سفاک کارروائی معصوم، بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنانے کا گھناؤنا جرم ہے، جو نہ صرف انسانی جانوں کے احترام کے منافی ہے بلکہ ملک کے امن و امان، مذہبی ہم آہنگی، قومی وحدت، بین المذاہب رواداری اور سماجی استحکام پر براہِ راست حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے جس کی کسی بھی مذہب، قانون، آئین اور اخلاقیات میں کوئی گنجائش نہیں۔ ایسے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دہشتگرد عناصر آج بھی متحرک ہیں، اور افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی سطح پر سکیورٹی، انٹیلی جنس اور حفاظتی اقدامات میں سنگین ناکامیاں موجود ہیں، جن کی وجہ سے معصوم شہری بار بار دہشتگردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

سہیل اکبر شیرازی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کی جان و مال کے تحفظ میں اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ اگر بروقت مؤثر حکمت عملی، پیشگی حفاظتی اقدامات اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو فعال بنایا جاتا تو ایسے سانحات سے بچا جا سکتا تھا۔ یہ ریاستی اداروں اور حکومت دونوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر، سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے، اور ملک بھر میں عبادت گاہوں، بالخصوص مساجد و امام بارگاہوں کی سکیورٹی کو ہنگامی بنیادوں پر مزید مؤثر، مضبوط اور مربوط بنایا جائے۔

انہوں نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد و مکمل صحتیابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان ہر قسم کی دہشتگردی، انتہاپسندی، نفرت انگیزی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف واضح، دوٹوک اور غیر متزلزل مؤقف رکھتی ہے، اور ہمیشہ امن، رواداری، بھائی چارے، بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر، اتحاد، شعور اور ہوشیاری کا مظاہرہ کریں۔ افواہوں اور نفرت انگیز پروپیگنڈے سے بچیں۔ ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور دشمن عناصر کی سازشوں کو اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ناکام بنائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سہیل اکبر شیرازی انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران