نئے ڈیزائن کے نوٹ عید پر دستیاب نہیں ہوں گے، گورنر ایس بی پی جمیل احمد
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) جمیل احمد نے کہا ہے کہ نئے کرنسی ڈیزائن کے نوٹ عید پر دستیاب نہیں ہوں گے۔
کراچی میں صحافیوں سے گفتگو میں جمیل احمد نے کہا کہ مہنگائی قابو میں ہے مالیاتی شعبہ مستحکم ہے توجہ معاشی نمو پر ہے، اس حوالے سے پیشرفت پائیدار ہے، یہ سلسلہ آئندہ 2 سال رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کی ساڑھے 10 ارب ڈالر ادائیگیوں میں سے 6 ارب ڈالر ادا کرچکے ہیں، 4 سے ساڑھے 4 ارب ڈالرز کی ادائیگیاں وقت پر کرلیں گے۔
گورنر ایس بی پی نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ستمبر 2027ء تک کے پروگرام میں ڈپازٹس رول اوور ہونا شامل ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ نان فوڈ ایکسپورٹ 5 سے 6 فیصد بڑھی، چاول کی برآمد کم ہوئی، چاول کی برآمدات بہتر ہوں گی۔ رواں مالی سال ترسیلات زر 42 ارب ڈالرز سے زیادہ ہوں گی۔
جمیل احمد نے یہ بھی کہا کہ نئے کرنسی ڈیزائن کے نوٹ عید پر دستیاب نہیں ہوں گے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نئے نوٹ کی پرنٹنگ اور مناسب اسٹاک کے بعد اجرا میں وقت لگے گا۔
گورنر ایس بی پی نے مزید کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے فیچرز جدید ترین ہیں، عام آدمی ہی بتادے گا کہ نوٹ اصلی ہے یا جعلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جمیل احمد ایس بی پی کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔