بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی اس معاملے میں ڈاکٹر عدیل، جنہیں دہلی دھماکہ سے قبل نوگام میں پوسٹرز برآمد کئے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، سے جڑے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی دھماکہ کیس کی جاری تحقیقات کے سلسلے میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے جمعہ کے روز گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ میں ایک بار پھر چھاپہ مارا اور تلاشی کارروائی انجام دی۔ ذرائع کے مطابق این آئی اے کی ایک خصوصی ٹیم نے ضلع کے دیالگام میں واقع میڈیکل کالج کا اچانک دورہ کیا اور وہاں موجود مختلف ریکارڈز، دستاویزات اور دیگر متعلقہ مواد کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ تحقیقاتی ایجنسی اس معاملے میں ڈاکٹر عدیل، جنہیں دہلی دھماکہ سے قبل نوگام میں پوسٹرز برآمد کئے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، سے جڑے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور ان ممکنہ روابط کی چھان بین کی جا رہی ہے جو دہلی دھماکہ کیس سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ این آئی اے کی ٹیم نے میڈیکل کالج انتظامیہ سے بھی ضروری معلومات حاصل کیں اور بعض اہم ریکارڈز کو اپنے قبضے میں لے لیا، تاکہ تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی دھماکہ سے قبل گرفتار کیا گئے ڈاکٹر عدیل سے پوچھ تاچھ کے دوران حاصل ہوئی معلومات کی بنیاد پر اس سے پہلے بھی گورنمنٹ میڈیکل کالج (GMC Anantnag) اننت ناگ میں چھاپہ مارا گیا تھا اور یہاں سے ایک ہتھیار بھی برآمد کیا گیا تھا، جس کے بعد اس معاملے کی سنگینی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق این آئی اے، اس کیس کے ہر پہلو کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ ممکنہ نیٹ ورک، معاونین اور دیگر روابط کو بے نقاب کیا جا سکے۔

تحقیقاتی ایجنسی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کیس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ فی الحال اس معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔ مقامی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور مستند معلومات کے لئے سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دہلی دھماکہ میڈیکل کالج معاملے میں آئی اے اس معاملے گیا تھا رہی ہے

پڑھیں:

جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی بدنام زمانہ ’جیفری ایپسٹین فائلز‘ میں بارہا نام آنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد فرانس میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے ہیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، جبکہ ان کے خلاف جاری فوجداری تحقیقات بھی ان کی وفات کے باوجود جاری رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز کا نیا حصہ جاری، ٹرمپ سے متعلق الزامات پر مبنی ایف بی آئی انٹرویوز کی دستاویزات منظر عام پر

پراسیکیوٹرز کے مطابق 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے میں واقع ان کے گھر سے پیر کی شام برآمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر ان کی موت کی وجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

وکیل کا دعویٰ، موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی

ڈینیئل سیاد کی وکیل، مینیا عرب تیگرین نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔ بعض فرانسیسی میڈیا اداروں نے بھی ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے یہی امکان ظاہر کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان کی لاش گھر کے کچن سے ایک خاتون نے دیکھی، جو اس وقت ان کے ساتھ رہ رہی تھیں، جبکہ ایک پڑوسی نے انہیں بچانے کے لیے ‘سی پی آر’ بھی کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ایپسٹین فائلز کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا

فرانسیسی حکام نے رواں سال فروری میں انسانی اسمگلنگ اور ٹیکس فراڈ سے متعلق وسیع تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز جاری ہونے کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے تناظر میں کی گئی۔

مزید پڑھیں:ایپسٹین فائلز: بینک آف امریکا متاثرہ خواتین کیس میں تصفیے پر مجبور

پیرس کی پراسیکیوٹر لور بیکو نے بتایا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد اب تک 24 خواتین خود کو متاثرہ یا گواہ کے طور پر سامنے لا چکی ہیں، جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مختلف الزامات سے متعلق بیانات ریکارڈ کرائے۔

نگرانی جاری رہی، مگر گرفتاری کے لیے شواہد ناکافی قرار

پراسیکیوٹرز کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈینیئل سیاد کی فون نگرانی سمیت خصوصی تفتیشی اقدامات کیے گئے تھے، تاہم اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے جو فوری گرفتاری کے لیے قانونی طور پر کافی سمجھے جاتے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 تفتیش کار اس کیس پر کام کر رہے ہیں اور ڈینیئل سیاد کی وفات کے باوجود تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

سیاد نے تمام الزامات مسترد کیے تھے

فرانسیسی میڈیا کے مطابق کم از کم 5 خواتین نے ڈینیئل سیاد پر ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم انہوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔

ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیاد نے متعدد بار فرانسیسی عدالتی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وکیل کے مطابق ان کے مؤکل آخر وقت تک اپنی بے گناہی پر قائم رہے۔

جیفری ایپسٹین سے تعلق کی وضاحت

ڈینیئل سیاد نے رواں سال مئی میں فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق صرف پیشہ ورانہ نوعیت کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو

تاہم امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دونوں کے درمیان ای میلز بھی شامل تھیں، جن میں ماڈلز سے متعلق گفتگو کا ذکر موجود تھا۔ انہی دستاویزات میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا۔

فرانس میں ایپسٹین سے منسلک دوسرے شخص کی موت

ڈینیئل سیاد فرانس میں ایپسٹین سے تعلق رکھنے والے دوسرے نمایاں فرد ہیں جن کی موت ہوئی ہے۔اس سے قبل فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل کو 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کے لیے خواتین فراہم کیں۔ برونیل 2022 میں مقدمے کی سماعت سے قبل جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی تھی۔

امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا۔ وہ 2019 میں نیویارک کی جیل میں ٹرائل سے قبل مردہ پائے گئے تھے، جبکہ سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس

بعد ازاں ان سے متعلق عدالتی دستاویزات اور ‘ایپسٹین فائلز’ منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں کئی افراد اور نیٹ ورکس کی سرگرمیاں دوبارہ تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔

ڈینیئل سیاد بھی انہی تحقیقات کے سلسلے میں فرانسیسی حکام کی زیرِ نگرانی تھے، تاہم ان کی وفات کے باوجود متعلقہ تحقیقات جاری رہیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی محکمہ انصاف انسانی اسمگلنگ پراسرار موت جیفری ایپسٹین ڈینیئل سیاد ریپ فائلز فرانس فرانسیسی میڈیا مردہ حالت وکیل

متعلقہ مضامین

  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت