بسنت اور احتجاج کرنے والوں کو سب مؤخر کر دینا چاہیئے، کچھ تو شرم کریں، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
ایک بیان میں پاکستانی سینیٹر نے کہا کہ ہم بے حسی کی اس حد تک گر چکے ہیں کہ جانور اور انسان کا فرق بھول گئے ہیں، آج اسلام آباد میں اتنا بڑا سانحہ ہوا جس میں 31 لوگ شہید اور 170 زخمی ہوئے ہیں، کیا کم سے کم آج کے دن بسنت اور احتجاج کی کال مؤخر نہیں کرنی چاہیئے تھی؟ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی جامع مسجد میں خودکش دھماکے کے بعد سینیٹر فیصل واوڈا نے بسنت اور احتجاج کرنے والوں کیلیے اہم پیغام جاری کر دیا۔ فیصل واوڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ہم بے حسی کی اس حد تک گر چکے ہیں کہ جانور اور انسان کا فرق بھول گئے ہیں، آج اسلام آباد میں اتنا بڑا سانحہ ہوا جس میں 31 لوگ شہید اور 170 زخمی ہوئے ہیں، کیا کم سے کم آج کے دن بسنت اور احتجاج کی کال مؤخر نہیں کرنی چاہیئے تھی؟ انہوں نے لکھا کہ ایک طرف جنازے اُٹھ رہے ہیں اور ڈھول باجوں کی گونج میں پتنگیں اڑائی جا رہی ہیں جبکہ دوسری طرف کوئی احتجاج کی تیاری میں ہے، ہمیں احساس کب ہوگا؟ فیصل واوڈا نے مزید لکھا کہ ابھی بھی بسنت اور احتجاج کرنے والوں کو سب مؤخر کر دینا چاہیے، پاکستانیوں کی شہادت کا احساس کر کے غم کی گھڑی میں لواحقین کیساتھ کھڑا ہونا چاہیے، ہم سب کچھ تو شرم کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بسنت اور احتجاج فیصل واوڈا
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔