اسلام آباد دھماکے میں آئی جی اسلام آباد کے کزن بھی شہید ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد دھماکے میں آئی جی اسلام آباد کے کزن بھی شہید ہوگئے۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں علامہ بشارت حسین امامی نے بتایا کہ شہداء میں آئی جی اسلام آباد کے کزن بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکا ہوا، جس میں 31 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہوا، خود کش حملہ آور نے مسجد میں داخلے سے روکنے پر خود کو اڑا لیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے پہلے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
دھماکے کے بعد پولیس اور فوج کے دستوں اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، تمام زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا اور اسپتالوں میں ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلام آباد کے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔