بھارتی ریاست بہار میں فحش اور ذومعنی گانوں پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-8-6
پٹنہ(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست بہار میں فحش اور ذومعنی گانوں پر پابندی۔ بہار پولیس نے فحش اورذو معنی گانوں کے خلاف ریاست گیر کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے جمعرات کے روز کہا کہ ایسے گانے ایک سنگین سماجی مسئلہ ہیں جو خواتین کے تحفظ کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور بچوں کی ذہنی نشوونما پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔نائب وزیر اعلیٰ، جو محکمہ داخلہ کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، نے ایک بیان میں کہا کہ ہولی کے تہوار سے قبل تمام اضلاع کی پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ عوامی مقامات، بسوں، ٹرکوں اور آٹو رکشاؤں میں فحش اور بازاری گانے بجانے والوں کے خلاف خصوصی مہم چلائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں متعلقہ افسران اور ضلع پولیس سربراہان کو سرکلر جاری کر دیا گیا ہے۔سمراٹ چودھری نے کہا کہ ایسے گانے عوامی مقامات پر خواتین کے لیے شرمندگی اور عدم تحفظ کا باعث بنتے ہیں۔جو بھی اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتا پایا جائے گا، اس کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہولی سے قبل یہ خصوصی مہم مسلسل جاری رہے گی۔واضح رہے کہ فحش اورذو معنی گانوں کا معاملہ اس سے قبل 2023 میں بہار اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا تھا، جب کانگریس کی رکن اسمبلی پرتیما کماری نے یکم مارچ کو ایوان میں اس مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت ریاستی حکومت نے قانون سازوں کو یقین دلایا تھا کہ اس سلسلے میں سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد تہواروں کے دوران خوشگوار ماحول کو برقرار رکھنا اور خواتین و بچوں کو باعزت اور محفوظ فضا فراہم کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فحش اور
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔