گوگل جیمنائی کے ماہانہ صارفین کی تعداد 75 کروڑ سے تجاوز کرگئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹ جیمنائی نے عالمی سطح پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کر لی ہے، جہاں اس کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 75 کروڑ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
یہ انکشاف کمپنی کی جانب سے جاری کی گئی تازہ سہ ماہی مالیاتی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختصر مدت میں جیمنائی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
گوگل کے مطابق رواں برس کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر جیمنائی کے ماہانہ صارفین کی تعداد 65 کروڑ تھی، تاہم صرف تین ماہ کے دوران اس میں 10 کروڑ سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اے آئی ٹیکنالوجی میں صارفین کی بڑھتی دلچسپی اور گوگل کی حکمتِ عملی کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ جیمنائی کی ترقی کی رفتار متاثر کن ہے، تاہم یہ اب بھی اپنے سب سے بڑے عالمی حریف چیٹ جی پی ٹی سے معمولی فاصلے پر ہے، جس کے ماہانہ صارفین کی تعداد 2025 کے اختتام تک 81 کروڑ تک پہنچ چکی تھی۔
دوسری جانب میٹا کے اے آئی چیٹ بوٹ کے ماہانہ صارفین کی تعداد تقریباً 50 کروڑ بتائی جا رہی ہے، جو اس مقابلے میں پیچھے دکھائی دیتا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرایا جانے والا جیمنائی 3 ماڈل اس تیز رفتار ترقی کی ایک بڑی وجہ ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ اب تک کا سب سے جدید اور طاقتور اے آئی ماڈل ہے، جو پیچیدہ مسائل کو غیر معمولی گہرائی کے ساتھ سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گوگل کے چیف بزنس آفیسر فلپ شنڈلر نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے جیمنائی کے مفت صارفین اور سبسکرپشن لینے والوں دونوں پر یکساں توجہ مرکوز رکھی ہے، جس کے نتیجے میں استعمال اور مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، گوگل کی حکمتِ عملی صارف دوست فیچرز، بہتر کارکردگی اور آسان رسائی پر مبنی ہے، جو جیمنائی کو عالمی سطح پر مضبوط مقام دلانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
ماہرین کے نزدیک اے آئی چیٹ بوٹس کے درمیان جاری یہ مسابقت آنے والے برسوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف صارفین کو جدید سہولیات میسر آئیں گی بلکہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں نئی جدتوں کے در بھی کھلیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ماہانہ صارفین کی تعداد جیمنائی کے اے آئی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔