اسلام آباد دھماکے میں شہید ہونے والوں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خودکش دھماکے کے شہدا کی نمازِ جنازہ امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ اور امام بارگاہ جامع صادق میں ادا کردی گئی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں گیارہ شہدا جبکہ امام بارگاہ جامع صادق میں تین شہداء کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی ہے، نمازِ جنازہ کے موقع پر وفاقی وزراء، پولیس حکام، تمام مکاتبِ فکر کے جید علمائے کرام، سیاسی رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، کل 33 شہدا کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔
سونے کی فی تولہ قیمت میں 11 ہزار 700 روپے اضافہ
شہداء کی میتیں جب نمازِ جنازہ کے لیے لائی گئیں تو فضا رقت آمیز ہو گئی، ہر طرف آہیں اور سسکیاں سنائی دیتی رہیں اور سوگوار اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں نمازِ جنازہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ علامہ حسین مقدسی نے پڑھائی، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر الرٹ رہے۔
دوسری جانب امام بارگاہ جامع صادق جی نائن میں شہداء کی نمازِ جنازہ آغا شیخ محمد شفا نجفی نے پڑھائی، جس میں اپوزیشن لیڈر، آئی جی اسلام آباد، سیاسی و مذہبی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنازہ گاہ کے اطراف بھی سخت سیکیورٹی انتظامات نافذ کیے گئے تھے۔
سپارکو کا ایک اور اہم سنگ میل، خلائی پروگرام کے لیے امیدواروں کا انتخاب مکمل
اس موقع پر شرکا نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی، جبکہ مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے ذمہ داروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: امام بارگاہ کی نماز
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔