data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کے خلائی ادارے سپارکو نے خلائی تحقیق اور انسانی خلائی سفر کے میدان میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

سپارکو کی جانب سے پاکستانی خلائی مشن کے لیے امیدواروں کے انتخاب کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد ابتدائی اسکریننگ کے نتیجے میں دو امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے خلائی پروگرام کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شارٹ لسٹ کیے گئے دونوں امیدوار اب 2 ماہ پر مشتمل خصوصی خلائی تربیت حاصل کریں گے، جس میں انہیں خلائی سفر، زیرو گریویٹی، مشن آپریشنز اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی عملی تربیت دی جائے گی۔

تربیت کے اس مرحلے کی کامیاب تکمیل کے بعد اکتوبر یا نومبر میں ایک امیدوار کو حتمی طور پر پاکستانی خلائی مشن کے لیے منتخب کیا جائے گا، جو چین کے خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوگا۔

یہ خلائی مشن پاکستان اور چین کے درمیان فروری 2025 میں طے پانے والے دو طرفہ خلائی تعاون کے معاہدے کا عملی نتیجہ ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کی قیادت میں بنائے گئے سپیس وژن کے تحت پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت کو مضبوط بنانا ہے۔

اس تاریخی اقدام کے تحت چین کی حکومت نے اپنے خلاباز پروگرام میں پاکستان کو پہلے غیر ملکی شراکت دار کے طور پر منتخب کیا، جو پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ شراکت نہ صرف سائنسی تحقیق کے فروغ میں مدد دے گی بلکہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے خلائی سائنس کے شعبے میں نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔

سپارکو حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشن پاکستان کے خلائی مستقبل کی بنیاد ثابت ہوگا اور آنے والے برسوں میں پاکستان مزید خلائی منصوبوں میں حصہ لینے کے قابل ہو جائے گا۔ پاکستانی خلاباز کی چین کے خلائی اسٹیشن تک رسائی ملک کے لیے سائنسی، تعلیمی اور تکنیکی میدان میں ایک تاریخی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان کے خلائی مشن کے خلائی میں ایک کے لیے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل