مسقط:ایران اور امریکا کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں جاری جوہری مذاکرات کا تازہ دور آج مکمل ہو گیا، جس میں دونوں فریقین نے سفارتی ذرائع کے ذریعے اپنے مؤقف، تحفظات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے اختتام پر دونوں ممالک نے بات چیت کا سلسلہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جسے مستقبل میں پیش رفت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی، جبکہ امریکا کی نمائندگی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے کی۔ یہ مذاکرات براہِ راست نہیں بلکہ بالواسطہ انداز میں ہوئے، جن میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے ثالث کا کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کئی گھنٹوں تک جاری رہے، جن میں جوہری معاہدے، اقتصادی پابندیوں، علاقائی سلامتی اور اعتماد سازی کے اقدامات پر بات کی گئی۔ ایرانی وفد کے ہمراہ موجود سرکاری نشریاتی ادارے کے رپورٹر نے بتایا کہ گفتگو تفصیلی اور سنجیدہ ماحول میں ہوئی اور دونوں جانب سے مؤقف واضح انداز میں پیش کیے گئے۔

مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مختصر بیان میں کہا کہ بات چیت مجموعی طور پر مثبت رہی اور فریقین نے آئندہ مذاکرات کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے، ایران سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے مذاکرات کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو صدر ٹرمپ کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ ترجمان کے مطابق امریکا خطے میں استحکام اور جوہری عدم پھیلاؤ کے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعے کی صبح شروع ہونے والے اس اجلاس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تحفظات اور مطالبات کو عمانی ثالثی کے ذریعے سنا اور مستقبل کی حکمت عملی پر ابتدائی مشاورت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مذاکرات کے کے مطابق

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری