عمان میں ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات کا تازہ دور مکمل، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
مسقط:ایران اور امریکا کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں جاری جوہری مذاکرات کا تازہ دور آج مکمل ہو گیا، جس میں دونوں فریقین نے سفارتی ذرائع کے ذریعے اپنے مؤقف، تحفظات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے اختتام پر دونوں ممالک نے بات چیت کا سلسلہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جسے مستقبل میں پیش رفت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی، جبکہ امریکا کی نمائندگی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے کی۔ یہ مذاکرات براہِ راست نہیں بلکہ بالواسطہ انداز میں ہوئے، جن میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے ثالث کا کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کئی گھنٹوں تک جاری رہے، جن میں جوہری معاہدے، اقتصادی پابندیوں، علاقائی سلامتی اور اعتماد سازی کے اقدامات پر بات کی گئی۔ ایرانی وفد کے ہمراہ موجود سرکاری نشریاتی ادارے کے رپورٹر نے بتایا کہ گفتگو تفصیلی اور سنجیدہ ماحول میں ہوئی اور دونوں جانب سے مؤقف واضح انداز میں پیش کیے گئے۔
مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مختصر بیان میں کہا کہ بات چیت مجموعی طور پر مثبت رہی اور فریقین نے آئندہ مذاکرات کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے، ایران سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے مذاکرات کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو صدر ٹرمپ کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ ترجمان کے مطابق امریکا خطے میں استحکام اور جوہری عدم پھیلاؤ کے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعے کی صبح شروع ہونے والے اس اجلاس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تحفظات اور مطالبات کو عمانی ثالثی کے ذریعے سنا اور مستقبل کی حکمت عملی پر ابتدائی مشاورت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مذاکرات کے کے مطابق
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔