مسجد و امام بارگاہ خدیجة الکبریٰ اسلام آباد میں خودکش دھماکہ استعماری سازشوں کا حصہ ہے، متحدہ علماء محاذ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد امین انصاری نے کہا کہ خودکش حملہ کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ انسانیت، اسلام و ملک کے باغی و استعمارکے ایجنٹ ہیں، حکومت پنجاب مساجد و امام بارگاہوں و عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہوجائے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ علماء محاذ پاکستان کے بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری نے سانحہ امام بارگاہ خدیجة الکبریٰ اسلام آباد خودکش دھماکہ کے خلاف مرکزی سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں منعقدہ ہنگامی احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسے پاکستان میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ استعماری سازشوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الہند و افغان خوارج کا نام لے کر حکومت خود کو بری الزمہ قرار نہیں دے سکتی، خودکش حملہ کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ انسانیت، اسلام و ملک کے باغی و استعمارکے ایجنٹ ہیں، حکومت پنجاب مساجد و امام بارگاہوں و عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہوجائے، متحدہ علماء محاذ شیعہ سنی استعماری سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ اجلاس میں شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا گیا زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی گئی اور سانحہ کے ذمہ دار دہشتگردوں کو فی الفور گرفتار کرکے عبرتناک سزائیں دیئے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔
علماء نے کہا کہ پاکستان شیعہ سنی فسادات کا متحمل نہیں ہوسکتا، عالمی استعماری قوتیں خصوصاً بھارت و خوارج باغی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے شیعہ سنی فسادات کی آگ بھڑکانا چاہتی ہیں، علماء مشائخ فرقہ واریت دہشتگردی کے سدباب اور امن و اتحاد و ملکی استحکام کیلئے اپنا موثر بھرپور کردار ادا کریں۔ احتجاجی اجلاس سے علامہ عبدالخالق فریدی سلفی، صاحبزادہ مولانا حافظ عبدالمجید، مولانا منظرالحق تھانوی، شیخ الحدیث مفتی محمد داؤد، مفتی شفیع الرحمن ہزاروی، مولانا مفتی حافظ محمد ابراہیم چترالی، علامہ سید سجاد شبیر رضوی، علامہ حسن شریفی، علامہ اشرف علی منتظری، علامہ مرتضیٰ خان رحمانی و دیگر نے اسلام آباد امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور امن و اتحاد کی فضاء قائم رکھنے کی اپیل کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس