Express News:
2026-07-24@08:09:47 GMT

کراچی کے تنقید نگار

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

سب سے پہلے تو میں نیاز مندان کراچی کے روح رواں اور چیئرمین و کنوینر رونق حیات کو مبارک باد پیش کروں گی کہ انھوں نے دو روزہ علمی و ادبی کانفرنس کا انعقاد اور احقرکو بھی اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔

تو صاحبان ذی وقار! میرے مقالے کا عنوان ہے ’’ کراچی کے تنقید نگار‘‘ اگر ہم کراچی کے تنقید نگاروں کی بات کریں تو مضمون اپنی طوالت کے باعث سماعتوں کے لیے گراں ثابت ہوگا، لیکن چند محققین و ناقدین کی تنقیدی بصیرتوں کا نچوڑ جوکہ ان کے علمی و ادبی امور کی شکل میں ہمارے سامنے ہے تو مختصر ہی سہی، ان کی خدمات کا جائزہ لینا اپنے موضوع سے انصاف کرنے کے مترادف ہوگا۔

تو شرکائے محفل ! ہم سب اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ کراچی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں شام و سحر ادبی محافل کا انعقاد معمول کی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کراچی اردو تنقید کا بھی ایک اہم مرکز ہے جہاں جید علما اور اہل علم اپنی علمیت، قابلیت اور اعلیٰ فکر و خیال کے باعث تخلیق و تنقید کی شمعیں روشن کرتے ہیں۔

کراچی کے ناقدین میں ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ڈاکٹر جمیل جالبی، حسن عسکری، ڈاکٹر اسلم فرخی، ڈاکٹر ابوالخیرکشفی ، پروفیسر سحر انصاری، معین الدین عقیل وغیرہ شامل ہیں اور جن نقادوں پر میں بات کروں گی، ان میں ڈاکٹر محمد علی صدیقی، جمیل جالبی، سلیم احمد، ریاض صدیقی ان قابل احترام ہستیوں کا تعلق خالصتاً کراچی سے ہے۔

ان ممتاز ناقدین اور ماہر لسانیات نے علمی کارناموں سے ایک شناخت تحریر و تقریر کی شکل میں بنائی ہے، ان کی اہمیت مسلم ہے۔ ان شخصیات نے کراچی یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے ذریعے تنقیدی روایات کو مستحکم کیا اور اردو ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

انھوں نے اردو ادب کے نئے رجحانات اور نظریات کو تشکیل دیا۔ڈاکٹر جمیل جالبی وہ تنقید نگار ہیں جنھیں اپنے ہم عصر ناقدین پر فوقیت حاصل ہے، ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’’ تاریخ ادب اردو‘‘ جیسی ضخیم اور تحقیقی و تنقیدی کتاب کی تصنیف ہے جس کے لیے انھیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 

ڈاکٹر جمیل جالبی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی ادب پارے کو معاشرتی سچائی کے بنا نہیں دیکھتے جس کی وجہ وہ اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ ادب اس معاشرے اور اس کی تہذیب اور رسم و رواج کی پیداوار ہے جس میں وہ تخلیق پاتا ہے وہ فن پارے کا تجزیہ کرتے وقت اس دور کے حالات کو مدنظر رکھتے ہیں۔

یقینی بات ہے ایک ادیب وہی لکھے گا جو وہ اپنے ارد گرد دیکھ رہا ہے اور شدت سے محسوس کر رہا ہے جبر و قہر کی فضا ہو یا امن و آشتی کا زمانہ ہو، اس کی تحریروں میں یہ احساسات سانس لیتے نظر آئیں گے۔

ڈاکٹر صاحب کی کتاب ارسطو سے ایلیٹ تک اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی تنقیدی نظریات پر ان کی گہری نظر تھی، انھوں نے مغربی تنقیدی اصولوں کو اردو ادب پر چھاپ لگنے نہیں دی بلکہ انھیں اردو کے مزاج کے مطابق ڈھالا اور اردو کے تناظر میں ایک نئی جہت سے آشنا کیا، جالبی صاحب کی تنقید میں انتہا پسندی ہے اور نہ ہی وہ قدامت پسند تھے کہ وہ بدلتی ہوئی تبدیلیوں کو مسترد کر دیں یا پھر یہ کہ وہ اپنی روایت سے کٹ جائیں۔

انھوں نے کلاسیکی ادب کی اہمیت کو سمجھا اور اسے اپنی تحریروں میں ڈھالا، اس کے ساتھ ہی جدید نظم نگاری میں جو ابہام پیدا ہوگیا تھا، اسے وسعت علم کی بدولت سلجھایا۔

جالبی صاحب کے نزدیک تنقید اور تاریخ لازم و ملزوم ہے۔ریاض صدیقی نقاد، شاعر اور صحافی تھے وہ ترقی پسند نظریات سے متاثر تھے۔ انھوں نے ادب کو محض جمالیاتی تسکین کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے سماجی تبدیلی اور حقوق انسانی کا ترجمان مانا۔

ان کی تحریروں میں سماجی شعور اور سچائی کے خوبصورت رنگ نظر آتے ہیں۔ وہ بے باک لکھاری تھے ، وہ مصلحت پسندی کو خاطر میں ہرگز نہیں لاتے تھے، وہ دو ٹوک الفاظ میں حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے خامہ فرسائی کرتے تھے۔ وہ کھرے لب و لہجے میں بات کرکے تسکین قلب حاصل کرتے تھے۔

ان کا زیادہ تر کام عصری ادب اور نئے رجحانات کو پرکھنا تھا۔ ان کی تنقید نگاری حقائق کی روشنی سے مرصع ہے، ان کی صحافتی خدمات بھی طویل عرصے پر محیط ہے وہ مشہور ادبی جریدے ’’ آج کل‘‘ جوکہ دہلی سے شایع ہوتا تھا اس پرچے سے بھی منسلک رہے۔ انھوں نے اپنے مضامین کے ذریعے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔

ان کی نثر و شاعری میں فکری پختگی نمایاں ہے۔ ان کا شمار چند نقادوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو ادب کو زندگی کے تلخ و شیریں واقعات سے جوڑا۔اگر ہم حسن عسکری کے شاگرد کے بارے میں جاننا چاہیں تو سب سے پہلے جو دماغ کے نہاں خانے میں روشن یادوں کے ساتھ ایک نام ابھرتا ہے، وہ سلیم احمد کا ہے۔

سلیم احمد ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک تھے۔ وہ شاعر تھے، ڈراما نگار تھے اور صحافت میں بھی ان کا نام سامنے آتا ہے لیکن ان کا خاص حوالہ یا شناخت غیر روایتی اور کاٹ دار تنقید تھی۔ وہ ایک ایسے نقاد تھے جنھوں نے سوال اٹھانے کا سلسلہ شروع کیا، ان کی تنقید محض علمی بحث نہیں تھی بلکہ اس میں جوش و جذبہ تھا وہ بہت توجہ اور دلچسپی سے تحریر کا جائزہ لیتے اور پھر وہ قلم اٹھاتے۔

ان کے مضامین روایت اور جدت سے ہم آہنگ ہیں، انھوں نے روایت کو موجودہ دورکے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کیا۔ انھوں نے ترقی پسند تحریک اور جدیدیت دونوں پر کھل کر بحث و مباحثہ کیا، ان کا نظریہ تھا کہ ادب کو کسی سیاسی نظریے کا اسیر نہیں ہونا چاہیے۔

انھوں نے نہ صرف یہ کہ نثر میں رنگ جمایا بلکہ شاعری میں غزل کے مطالعہ انسانی نفسیات اور جنسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا۔ ان کی اہم ترین کتاب ’’ اکائی‘‘ بہت سی معلومات کے در کھولتی اور تفکر کی راہیں ہموار کرتی ہے۔ وہ جرأت رندانہ کا مظاہرہ کرنے میں دیانت داری کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہیں۔

انھوں نے نابغہ روزگار شخصیات کا محاکمہ خلوص انصاف کے ساتھ کیا خصوصاً غالب، فیض، اقبال جیسے بڑے شعرا پر لکھتے وقت علمی اور تنقیدی رویہ اپنایا۔ ان کی کتاب ’’غالب کون‘‘ یہ کتاب منفرد زاویہ پیش کرتی ہے۔ سلیم احمد اس بات کے قائل تھے کہ نقاد کا کام یہ ہے کہ وہ تحریر کے قالب میں اتر کر تعریف و تنقیص کو تلاش کرے اور پھر اس کا اظہار کرنے میں حق کا ساتھ دے۔

سلیم احمد کے یہاں تنقید محض ایک فن نہیں بلکہ ایک تنقیدی عمل ہے جہاں وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ہمارے آخری تنقید نگار ڈاکٹر محمد علی صدیقی ہیں۔ وہ نقاد، محقق، کالم نگار اور ماہر تعلیم تھے، اردو ادب کی دنیا میں وہ ’’ایریل‘‘ (Ariel) کے نام سے مشہور ہیں۔ اپنے اسی قلمی نام کے تحت وہ ڈان میں کالم لکھتے رہے۔

انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور کینیڈا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر اور اس کے علاوہ کئی تعلیمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ ڈاکٹر صاحب ادب میں ترقی پسند تحریک کے حامی تھے اور اسے سماجی شعور کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

ان کا شمار چند نقادوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو ادب کو عالمی تناظر میں دیکھا۔ انھوں نے تنقید و تحقیق کے حوالے سے پندرہ سے زائد کتابیں لکھیں ان کی مشہور کتابوں میں تلاش و توازن، مضامین ایریل اور ادب و لسانیات شامل ہیں۔ انھوں نے بین الاقوامی سطح پر اردو ادب کی نمایندگی کی۔

جدید مغربی نظریات سے اردو تنقید کو روشناس کرایا، انھوں نے ایک ایسی بنیاد فراہم کی جہاں نظریہ اور فن ایک دوسرے سے متصادم ہونے کی بجائے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے تنقید میں تقابلی مطالعہ کو بہت فروغ دیا، وہ مشرقی اور مغربی ادب کے وسیع مطالعہ کے حامل تھے اسی لیے وہ اردو ادیبوں کا موازنہ عالمی سطح کے تخلیق کاروں سے کرتے ہیں۔

ان کی کتاب ’’نشانات اور توازن‘‘ اس بات کا بین ثبوت ہے۔ڈاکٹر محمد علی صدیقی کا فکری نظریہ مارکسی نظریہ تھا، ان کے بقول ادب خلا میں تخلیق نہیں ہوتا بلکہ یہ اپنے عہد کا عکاس ہوتا ہے۔ وہ ادب برائے ادب کے بجائے ادب برائے زندگی کے قائل تھے۔ حکومت پاکستان نے ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ اس کے ساتھ ہی میں اپنے مضمون کا اختتام کروں گی۔

(نیاز مندان کراچی کی ادبی کانفرنس

 میں پڑھا گیا مضمون)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کو مدنظر رکھتے جمیل جالبی تنقید نگار سلیم احمد کراچی کے کی تنقید انھوں نے کے ساتھ اس بات اور اس ادب کو

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک