Express News:
2026-07-24@01:00:20 GMT

وفاق کمزور کیوں ہوتا ہے

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

وفاق کوئی جغرافیائی لکیروں کا مجموعہ نہیں کہ نقشے پر سرخ پین سے انھیں جوڑ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اکائی وجود میں آ گئی۔ وفاق ایک نازک رشتہ ہے، ایسا رشتہ جو احترام مانگتا ہے، اعتماد چاہتا ہے اور سب سے بڑھ کر سننے کی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔

جب ریاست اپنے ہی شہریوں کی آواز سے خائف ہونے لگے تو پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ صوبے ناراض کیوں ہیں؟ سوال یہ بنتا ہے کہ وفاق زندہ کیسے رہ سکتا ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد سے آج تک اگر کوئی مسئلہ مسلسل ہماری سیاست کے پس منظر میں موجود رہا ہے تو وہ وفاق اور صوبوں کے آپس کے تعلق کا ہے۔ یہ تعلق کبھی وعدوں پر قائم ہوا، کبھی طاقت کے سہارے چلایا گیا اور اکثر اوقات نظرانداز کیا گیا۔

وفاق کا تصور کاغذ پر تو مضبوط رہا مگر زمین پر اس کی جڑیں کمزور ہوتی گئیں، وجہ شاید یہ ہے کہ ہم نے وفاق کو ایک انتظامی ڈھانچہ سمجھ لیا، انسانی معاہدہ نہیں۔

وفاق کی اصل طاقت رضامندی میں ہوتی ہے، اطاعت میں نہیں۔ جب اکائیاں خود کو شراکت دار سمجھیں نہ کہ ماتحت تب ریاست مضبوط ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں مرکز نے اکثر شراکت کے بجائے کنٹرول کو ترجیح دی۔

فیصلے اسلام آباد میں ہوتے رہے، ان کے اثرات کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد اور گلگت میں بھگتے جاتے رہے۔ یوں دوریوں نے جنم لیا۔وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اس کمزوری کی سب سے نمایاں علامت ہے۔ جس زمین سے گیس نکلتی ہے وہیں پے آخر میں گیس پہنچی۔

جن پہاڑوں میں معدنیات چھپی ہیں، وہاں اسکول اور اسپتال ناپید ہیں۔ بندرگاہیں کسی اور کے نام پر، فائدہ کسی اور کے حصے میں۔ یہ صرف معاشی ناانصافی نہیں، ایک اخلاقی مسئلہ ہے۔ ریاست اگر اپنے ہی شہریوں کو برابر کا حق نہ دے تو وفاداری کا مطالبہ کس منہ سے کرتی ہے؟

بلوچستان کی مثال سامنے ہے۔ وہاں مسئلہ صرف ترقی کا نہیں اعتماد کا ہے۔ ترقی کے نام پر اگر سوال پوچھنے کی اجازت چھن جائے تو وہ ترقی وفاق کو مضبوط نہیں کرتی کمزور کرتی ہے۔

ریاست یہ سمجھنے میں بارہا ناکام رہی کہ اختلاف غداری نہیں اور سوال کرنا دشمنی نہیں۔اسی طرح سندھ اور خیبر پختونخوا کی تاریخ بھی شکایات سے بھری پڑی ہے۔ کبھی پانی کا مسئلہ، کبھی وسائل کا ،کبھی شناخت کا۔

زبان اور ثقافت کو خطرہ سمجھنے کی ذہنیت نے تنوع کو طاقت بنانے کے بجائے کمزوری بنا دیا۔ حالانکہ دنیا کی مضبوط ریاستیں وہی ہیں جو اپنی مختلف شناختوں کو تسلیم کرتی ہیں انھیں دبانے کی کوشش نہیں کرتیں۔

وفاق کی کمزوری کا ایک اور پہلو ریاستی یادداشت کا بحران ہے۔ ریاست جلد بھول جاتی ہے، عوام نہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین آج بھی دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ وعدے کیے گئے کمیشن بنے مگر زخم بھرے نہیں۔

جب انصاف مؤخر ہو جائے تو وہ انکار بن جاتا ہے اور انکار وفاق کے لیے زہر ہے۔مرکزیت کی یہ ذہنیت کہ سب کچھ ایک ہی جگہ سے کنٹرول کیا جائے نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ غیر حقیقت پسندانہ بھی۔

اکیسویں صدی میں ریاستیں نیچے کی طرف طاقت منتقل کر رہی ہیں، ہم اب بھی اوپر جمع کرنے کے خمار میں مبتلا ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وفاق ایک بوجھ بننے لگتا ہے، ایسا بوجھ جسے اٹھانے کی خواہش کم اور مجبوری زیادہ ہوتی ہے۔

وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد اس وقت ٹوٹتا ہے جب فیصلے بند کمروں میں ہوں اور ان کے اثرات کھلے میدانوں میں جھیلے جائیں۔ جب قانون سب کے لیے برابر نہ ہو اور طاقتور کے لیے نرمی کمزور کے لیے سختی ہو تو وفاق کا اخلاقی جواز ختم ہونے لگتا ہے۔ ریاست شاید چلتی رہے مگر وفاق کھوکھلا ہو جاتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ وفاق صرف سیاسی بندوبست نہیں سماجی معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ تبھی زندہ رہتا ہے جب ریاست اپنے شہریوں کو سنے ان کے دکھ کو مانے اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے۔

معافی کمزوری نہیں ہوتی طاقت کی علامت ہوتی ہے۔ مگر ہماری سیاست میں معافی کا لفظ اب بھی اجنبی ہے۔آج جب ہم بار بار قومی سلامتی کی بات کرتے ہیں تو یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ سلامتی کس کی؟

اگر ایک ماں اپنے بیٹے کی واپسی کے لیے دہائیاں دے اور جواب نہ ملے تو یہ سلامتی کس کام کی اگر ایک صوبہ اپنے وسائل پر اختیار مانگے اور اسے شک کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ اتحاد کیسی بنیادوں پر کھڑا ہے۔

وفاق طاقت سے قائم نہیں ہوتا۔ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے مگر وابستگی نہیں۔ وابستگی انصاف سے جنم لیتی ہے برابری سے پروان چڑھتی ہے اور احترام سے مضبوط ہوتی ہے، جب مرکز یہ سیکھ لے کہ سوال سننا کمزوری نہیں تب وفاق اور بھی مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ وفاق کیوں کمزور ہو رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے مضبوط کرنا بھی چاہتے ہیں؟ کیونکہ وفاق بندوق سے نہیں دل سے بنتا ہے اور دل جیتنے کے لیے طاقت نہیں سچائی درکار ہوتی ہے۔

وفاق کی مضبوطی کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ ریاست اپنی پالیسیوں میں شفافیت کو یقینی بنائے۔ جب فیصلے عوام سے چھپا کر کیے جائیں اور ان کے نتائج عوام ہی کو بھگتنا پڑیں تو اعتماد کی فضا قائم نہیں رہتی۔

صوبوں کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ان کی رائے سنی جا رہی ہے اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شکایات کو بغاوت اور مطالبات کو خطرہ سمجھ لیا جاتا ہے جس سے فاصلے مزید بڑھ جاتے ہیں۔

وفاقی نظام میں مقامی حکومتوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ جب اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوتے تو عوام خود کو ریاستی عمل سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ بلدیاتی ادارے عوام اور ریاست کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں انھیں یا تو کمزور رکھا گیا یا مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوامی مسائل بڑھتے گئے اور وفاق سے وابستگی کمزور ہوتی چلی گئی۔میڈیا اور نصاب تعلیم بھی وفاقی ہم آہنگی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں مگر جب تاریخ کو منتخب سچائیوں کے ساتھ پیش کیا جائے اور مختلف شناختوں کو شک کی نظر سے دیکھا جائے تو نئی نسل میں بھی تعصب جنم لیتا ہے۔

وفاق اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب ریاست اپنے تمام شہریوں کو برابر سمجھے ان کی ثقافت زبان اور شناخت کو تسلیم کرے اور اختلاف کو جمہوری عمل کا حصہ مانے۔

وفاق کو بچانے کا راستہ طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مکالمے کے فروغ میں ہے۔ جب بات چیت کے دروازے بند ہو جائیں تو دوریاں پیدا ہوتی ہیں اور یکجہتی نہیں رہتی۔ وفاق کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست سننا سیکھے، ماننا سیکھے اور سب سے بڑھ کر اپنے شہریوں پر اعتماد کرنا سیکھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوال یہ وفاق کو کہ وفاق ہوتی ہے وفاق کی جائے تو ہوتا ہے ہے اور کے لیے اور ان

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار