تونسہ شریف، سانحہ مسجد خدیجة الکبری میں شہید ہونے والے احسان اللہ کی نماز جنازہ ادا، تدفین کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
نماز جنازہ کے موقع پر علامہ اقتدار حسین نقوی کا کہنا تھا کہ جب ریاست دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کو کھلے عام مکمل سیکورٹی فراہم کرتے ہوئے جلسوں کی اجازت دے اور دوسری طرف علما و مساجد و امام بارگاہوں کی سیکورٹی واپس لے تو ایسے واقعات کو ہونے سے کون روک سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد کی مسجد خدیجة الکبری میں شہید ہونے والے تونسہ شریف کے رہائشی احسان اللہ کی نماز جنازہ آبائی علاقے تونسہ شریف میں مجلس وحدت مسلمین عزاداری ونگ کے مرکزی صدر علامہ اقتدار حسین نقوی کی اقتداء میں ادا کردی گئی، اس موقع پر ضلعی صدر سید اظہر کاظمی سمیت اہل علاقہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ علامہ اقتدار حسین نقوی کا کہنا تھا کہ جب ریاست دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کو کھلے عام مکمل سیکورٹی فراہم کرتے ہوئے جلسوں کی اجازت دے اور دوسری طرف علما و مساجد و امام بارگاہوں کی سیکورٹی واپس لے تو ایسے واقعات کو ہونے سے کون روک سکتا ہے۔ ایک طرف شیعان حیدر کرار کو اپنے گھر میں چادر چاردیواری میں مجلس کروانے پر پرچے دے کے روکا جاتا ہے دوسری طرف دہشتگردوں کو خود سیکورٹی فراہم کرکے ان سے پاور شو کروائے جاتے ہیں۔ ریاست نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔ ادارے یاد رکھیں یہ جن کو پرموٹ کررہے ہیں یہ درندے کل ان کے سروں پر ناچیں گے اور یہ خود بھی ان سے محفوظ نہیں ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔