Jasarat News:
2026-07-24@09:09:39 GMT

پاکستان کا معاشی بحران: ایک خاموش قومی المیہ

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260208-03-6
پاکستان اس وقت محض معاشی مشکلات کا شکار نہیں، بلکہ ایک گہرے، ہمہ گیر اور ساختی مالیاتی بحران میں گھرا ہوا ہے۔ یہ بحران اب محض حکومتی ایوانوں، سفید کاغذوں اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں تک محدود نہیں رہا۔ اس کی گونج ہر گھر کی دیواروں میں سرایت کر چکی ہے، اس کا بوجھ ہر شہری کے کندھوں پر محسوس ہو رہا ہے۔ وزارت خزانہ کی تازہ ترین ’’مالیاتی پالیسی رپورٹ‘‘ نے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں، وہ کسی خشک تخمینے کا نتیجہ نہیں، بلکہ پوری ایک قوم کے اجتماعی مستقبل پر لگے ہوئے قرض کا کھلا ریکارڈ ہے۔ اس دستاویز کے مطابق، آج پاکستان کا ہر مرد، عورت اور بچہ اوسطاً 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ یہ وہ قرض ہے جو نہ کسی نے مانگا، نہ کسی کاروبار میں لگایا، بلکہ یہ اس کی پیدائش اور شہریت کا خاموش ’’ٹیکس‘‘ ہے، جو اس پر اس کی مرضی کے بغیر عائد کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جون 2024 سے جون 2025 کے دوران پاکستان کا کل عوامی قرضہ 71.

2 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 80.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ یوں محض بارہ ماہ میں 9.3 ٹریلین روپے کا حیرت ناک اضافہ درج ہوا۔ یہ وہ خطیر رقم ہے جو پورے صوبے کے بجٹ کے برابر ہے۔ سوال ذہن میں کڑچڑاہٹ پیدا کرتا ہے: آخر یہ پیسہ کہاں گیا؟ کیا اس سے ملک میں نئے اسپتالوں، اسکولوں یا یونیورسٹیوں کی بنیاد پڑی؟ کیا عوامی صحت یا تعلیم کے معیار میں کوئی واضح بہتری آئی؟ کیا روزگار کے نئے در کھلے یا صنعتی پیداوار میں انقلاب آیا؟ بدقسمتی سے، ان تمام سوالوں کا جواب ایک تلخ ’’نہیں‘‘ ہے۔

یہ قرض نہ تو ترقی کی کوئی نئی عمارت کھڑی کرنے میں استعمال ہوا، نہ ہی عوام کے معیار زندگی میں بہتری لانے میں۔ بلکہ، یہ تو محض پرانے قرضوں کے سود کی ادائیگی، روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر، اور ماضی کی بدانتظامی کے بوجھ کو اٹھانے کے لیے لیا گیا۔ ہم ایک ایسے گہرے دلدل میں پھنس چکے ہیں جسے معاشی اصطلاح میں ’’قرض کے جال‘‘ (Debt Trap) کہا جاتا ہے۔ ہم ترقی کے لیے قرض نہیں لے رہے، بلکہ قرض چکانے کے لیے مزید قرض لے رہے ہیں۔ گزشتہ سال میں فی کس قرض میں 13 فی صد کا اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ کسی ووٹ، مشاورت یا آگاہی کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک خاموش حکم نامہ ہے جو ایک کسان، مزدور، استاد، ڈاکٹر، طالب علم اور چھوٹے دکاندار سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ سب برابر کے ’’شریک ِ قرض‘‘ ہیں، مگر منصوبہ بندی یا فوائد میں کسی کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جدید طرز کی معاشی غلامی ہے، جس کی زنجیریں نظر نہیں آتیں، مگر اس کی پکڑ نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ آج کا یہ قرض درحقیقت ہمارے آنے والے بچوں کے مستقبل کو گروی رکھ رہا ہے۔

رپورٹ کا سب سے پرتشویش پہلو یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ کی جانب سے مقرر کردہ خرچ کی حد سے 3.1 ٹریلین روپے زیادہ خرچ کر ڈالے، جو ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2.7 فی صد بنتا ہے۔ یہ محض مالی غلطی نہیں، بلکہ ایک واضح دستوری اور قانونی خلاف ورزی ہے۔ اس کے بعد سوال اٹھتے ہیں جو جمہوریت کی بنیادوں کو ہلا دیتے ہیں: اگر حکومت خود قانون توڑے گی، تو احتساب کا عمل کون چلائے گا؟ اگر پارلیمنٹ کی منظوری محض ایک رسمی مہر بن کر رہ جائے، تو عوامی نمائندگی کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟ اگر قانون صرف عام شہری پر لاگو ہو اور حکمران اس سے بالاتر ہوں، تو ریاست کا اخلاقی جواز کیا رہ جاتا ہے؟ حال کا منظر نامہ انتہائی تضاد سے بھرپور ہے۔ ایک طرف عوام سے یہ مطالبے کیے جاتے ہیں: بجلی اور گیس کا استعمال کم کریں۔ مزید ٹیکس برداشت کریں۔ مہنگائی کے طوفان میں گھر چلائیں۔

دوسری طرف، حکمرانی کے رویوں میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی: نئے محکمے اور وزارتیں بنائی جاتی ہیں۔ کابینہ کے سائز میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے نئے بیڑے خریدنے پر خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے۔ دفتری اخراجات اور عیش و آرام میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ یہ دوہرا معیار محض معاشی نہیں، بلکہ ایک عمیق اخلاقی بحران کی علامت ہے۔ جب ریاست خود سادگی، احتیاط اور شفافیت کی پابندی کرنے سے انکاری ہو، تو عوام سے قربانی کا مطالبہ محض طنز بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ بحران بنیادی طور پر روپے، ڈالر یا اعداد کا نہیں ہے۔ یہ ترجیحات کے شدید بگاڑ، احساسِ ذمے داری کے فقدان اور احتساب کے نظام کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ یہ اس سوچ کی پیداوار ہے جہاں: اشرافیہ کے مفادات مقدس ہیں۔ عوام کو قربانی کا بکرا سمجھا جاتا ہے۔ قانون میں لچک صرف طاقتوروں کے لیے ہے۔ طویل المدتی منصوبہ بندی کے بجائے وقتی ’’فائر فائٹنگ‘‘ پر انحصار ہے۔ حل مشکل ضرور ہیں، لیکن ناممکن نہیں۔

ان کے لیے سیاسی عزم، قومی یکجہتی اور بالادست ِ قانون کی ضرورت ہے:1۔ حقیقی کفایت شعاری: سب سے پہلے حکمران طبقے اور سرکاری مشینری پر لاگو ہو۔ تمام غیر ضروری اخراجات فوری طور پر بند کیے جائیں۔2۔ پارلیمانی بالادستی بحال کریں: قرض لینے اور خرچ کرنے کے ہر عمل پر پارلیمنٹ کی سخت نگرانی اور مکمل اختیار ہو۔ قانون کی خلاف ورزی پر خودکار احتسابی عمل شروع ہو۔ 3۔ منصفانہ ٹیکس نظام: ٹیکس کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر نہ ہو۔ غیر دستاویزی معیشت، زمینداری اور مخصوص مفاد پرست گروہوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 4۔ پیداواری معیشت کی جانب shift: قرض کا رخ ترقیاتی منصوبوں، برآمدات کو بڑھانے، اور روزگار پیدا کرنے والے شعبوں (جیسے صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی) کی طرف موڑا جائے۔ 5۔ شفافیت اور معلومات کا حق: ہر شہری کو یہ جاننے کا حق ہو کہ اس کے نام پر لیا گیا قرض کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ تمام معاہدے اور معاملات عوام کے سامنے ہوں۔ لیکن ان تمام تجاویز سے پہلے، سب سے ضروری چیز سچ بولنے اور سننے کی ہمت ہے۔ حکمرانوں کو عوام کے سامنے مکمل حقیقت پیش کرنی ہوگی، اور عوام کو اپنے حق میں آواز اٹھانے کا عزم کرنا ہوگا۔

ہر شہری کے سر پر 3 لاکھ 33 ہزار روپے کا قرض ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے: کیا ہم اس کے بارے میں جاننے، سمجھنے اور اس کا حساب مانگنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم محض تماشائی بنے رہیں گے، یا پھر اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر سوال اٹھائیں گے؟ یہ وقت خواب دیکھنے کا نہیں، بیدار ہونے کا ہے۔ یہ ملک محض ایک بجٹ لائن یا قرض کے اعداد کا مجموعہ نہیں، بلکہ کروڑوں خوابوں، امیدوں اور جانوں کا مسکن ہے۔ اگر قرض لینے والوں سے سوال نہ کیا گیا، اگر قانون توڑنے والوں کو بے نقاب نہ کیا گیا، تو یہ قرض محض کاغذوں پر اعداد نہیں رہے گا۔ یہ تاریخ کے سیاہ باب کے طور پر ثبت ہوگا۔ اور تاریخ یاد رکھتی ہے۔ نہ قرض، بلکہ کردار۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹریلین روپے جاتا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی