مشہور و معروف گلوکارہ کوبرا سانپ کے ڈسنے سے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
نائیجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں ابھرتی ہوئی گلوکارہ افنانیا نوانگین سانپ کے ڈسنے سے انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 26 برس تھی۔ وہ ’دی وائس نائیجیریا‘ میں ریحانا کے گانے ‘ٹیک اے بو’ کی پرفارمنس کے بعد خاصی مقبول ہوئی تھیں۔
امیموسو کوائر کے سربراہ سیم ایزوگوو کے مطابق ہفتے کے روز نوانگین کو ان کے گھر میں سوتے ہوئے کوبرا نے کلائی پر ڈس لیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں سانپ پکڑنے والے کو ان کے اپارٹمنٹ سے درمیانے سائز کا سانپ نکالتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 2 سانپ پکڑے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت میں سانپ کے کاٹنے سے ہر سال 50 ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں، رپورٹ میں انکشاف
ان کے قریبی دوست پاسکل نوورگو نے بتایا کہ ابتدائی کلینک میں اینٹی وینم دستیاب نہ ہونے کے باعث انہیں فیڈرل میڈیکل سینٹر جابی منتقل کیا گیا، جہاں پہنچنے تک ان کی حالت تشویشناک ہو چکی تھی۔ نوورگو کے مطابق وہ سانس لینے میں دشواری کا شکار تھیں اور صرف اشاروں سے بات کر پا رہی تھیں۔
ایزوگوو کا کہنا ہے کہ اسپتال میں ایک اینٹی وینم تو دیا گیا، تاہم مزید درکار دوا موجود نہیں تھی۔ اسپتال انتظامیہ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عملے نے فوری اور مکمل طبی امداد فراہم کی، مگر مریضہ شدید اعصابی پیچیدگیوں کا شکار تھیں اور انتہائی نگہداشت یونٹ منتقل کیے جانے سے قبل حالت بگڑ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی ریاست بہار: ایک سالہ بچے نے کوبرا کو کاٹ لیا، سانپ ہلاک، بچہ بے ہوش
نوانگین کی موت پر نائیجیریا میں صحت کے نظام پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 50 لاکھ افراد کو سانپ ڈستے ہیں، جن میں ایک لاکھ کے قریب اموات ہوتی ہیں، جبکہ افریقہ میں مؤثر اینٹی وینم کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔