اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے سالانہ اجتماع میں صاحبزادہ وسیم حیدر40 ویں ناظم اعلیٰ منتخب
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے سالانہ اجتماع کے موقع پر صاحبزادہ وسیم حیدر 40ویں ناظم اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔
مرکزی سیکریٹری اطلاعات طیب چوہان کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا 73واں سالانہ اجتماع مسلم ایجوکیشنل کمپلیکس اضاخیل بالا، ضلع نوشہرہ میں میں منعقد ہوا جس میں نو منتخب ناظمِ اعلیٰ کا انتخاب ایک سالہ مدت سیشن 2026-27ء کے لیے کیا گیا۔
اراکینِ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے خفیہ رائے دہی کے ذریعے ناظمِ اعلیٰ کا انتخاب کیا۔صاحبزادہ وسیم حیدر جامعہ پشاور میں پی ایچ ڈی تعلقاتِ عامہ کے طالب علم ہیں، وہ اس سے قبل معتمدِ عام، ناظمِ خیبر، سیکریٹری صوبہ خیبر اور ناظمِ پشاور بھی رہ چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔