اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے سالانہ اجتماع میں صاحبزادہ وسیم حیدر40 ویں ناظم اعلیٰ منتخب
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے سالانہ اجتماع کے موقع پر صاحبزادہ وسیم حیدر 40ویں ناظم اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔
مرکزی سیکریٹری اطلاعات طیب چوہان کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا 73واں سالانہ اجتماع مسلم ایجوکیشنل کمپلیکس اضاخیل بالا، ضلع نوشہرہ میں میں منعقد ہوا جس میں نو منتخب ناظمِ اعلیٰ کا انتخاب ایک سالہ مدت سیشن 2026-27ء کے لیے کیا گیا۔
اراکینِ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے خفیہ رائے دہی کے ذریعے ناظمِ اعلیٰ کا انتخاب کیا۔صاحبزادہ وسیم حیدر جامعہ پشاور میں پی ایچ ڈی تعلقاتِ عامہ کے طالب علم ہیں، وہ اس سے قبل معتمدِ عام، ناظمِ خیبر، سیکریٹری صوبہ خیبر اور ناظمِ پشاور بھی رہ چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔