زیمبیا سے ڈی پورٹ تین افراد کراچی ایئرپورٹ پر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی امیگریشن ٹیم نے زیمبیا سے ڈی پورٹ کیے گئے تین پاکستانی شہریوں کو وطن واپسی پر حراست میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق امیگریشن حکام نے معمول کی جانچ پڑتال کے دوران تینوں نوجوانوں کو روکا، جنہیں زیمبیا میں غیر قانونی داخلے کی کوشش پر وہاں کی حکام نے گرفتار کر کے پاکستان واپس بھیج دیا تھا۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ مزمل علی نے جنوبی افریقہ جانے کے لیے ایجنٹ نوید کو 18 لاکھ روپے ادا کیے تھے، جبکہ دیگر دو افراد ارسلان اور اویس نے ایجنٹ کو فی کس تین لاکھ امریکی ڈالر ادا کیے۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق تینوں ملزمان زیمبیا پہنچنے سے قبل تقریباً ڈیڑھ ماہ تک تنزانیہ میں مقیم رہے۔ زیمبیا میں غیر قانونی داخلے کی کوشش ناکام ہونے پر انہیں گرفتار کر کے کراچی ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
ایئرپورٹ پر گرفتاری کے بعد تینوں افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔