محفوظ بسنت کا تصور دوسرے شہروں میں بھی اپنایا جائے گا، خوش ہوں لاہوریوں نے لاج رکھی: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) بسنت بہار، لاہور میں 3 روز کے دوران 9 لاکھ گاڑیو ں کی انٹری ایک ریکارڈ ہے۔ اورنج لائن، میٹرو بس، فیڈر بس، الیکٹرو بس اور دیگر سرکاری بسوں پر 2 روز میں تقریباً 14 لاکھ مسافروں نے سفر کر کے نیا ریکارڈ بنا دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ نگرانی خصوصی ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا، جس میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بسنت کی دو روزہ رپورٹ پیش کی۔ ہوم سیکرٹری احمد جاوید قاضی، کمشنر، ہیلتھ، پی ایچ اے، پولیس اور سکیورٹی حکام نے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت کے انتظامات اور سکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہارکیا۔ تین روزہ بسنت فیسٹیول کے اختتام پر پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی۔ بسنت فیسٹیول کے دوران لاہور کے شہریوں کا تعاون بھی قابل تحسین ہے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پر جمعہ کو 2لاکھ 99 ہزار، ہفتے کو 3 لاکھ 5 ہزار، مجموعی طور پر 2 روز میں 6لاکھ سے زائد مسافروں نے مفت سفر کیا۔ میٹر وبس پر جمعہ کو ایک لاکھ 43ہزار،ہفتے کو ایک لاکھ 35 ہزار مجموعی طور پر 2لاکھ 78 ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا۔ سپیڈو فیڈر بسوں پر جمعہ کو ایک لاکھ 74 ہزار، ہفتے کو ایک لاکھ 82 ہزار مجموعی طور پر 3 لاکھ 56 ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا۔ الیکٹرو بس فیڈر روٹس پر جمعہ کو 15ہزار، ہفتے کو 15ہزار مجموعی طور پر 30ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا ۔ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے تحت مہیا کردہ بسوں پر جمعہ کو 30ہزار ہفتہ کو30ہزار مجموعی طورپر 60 ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا۔ گرین الیکٹرو بسوں پر جمعہ کو 25 ہزار، ہفتے کو 27 ہزار مجموعی طور پر 52ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا۔ بریفنگ کے دوران مزید بتایا گیاکہ لاہور میں عوام کے مفت سفر کے لئے 419 بسیں آخری دن بھی میسر رہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے میڈیا میسج میں لاہوریوں کو شاباش دی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے بسنت کے موقع پر حفاظتی ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے پر اہل لاہور کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ خوشی ہے کہ لاہور والو ں نے ہمارے اعتماد کی لاج رکھی ہے۔ لاہور بہت خوش ہے، میں بھی بہت خوش ہوں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ الحمد للہ لاہور والوں نے قواعدو ضوابط پر عمل کر کے محفوظ بسنت منانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خوش و خرم مگر محفوظ بسنت کا تصور پوری طرح اپنایا گیا۔ کھابے کھائے گئے پیچوں پر پیچ لڑائے گئے، ہوا کے جوش پر پتنگوں کی آنکھ مچولی ہوتی رہی، یہی خوشی ہے۔ مقررہ سائزاور مقررہ پنے کے علاوہ ممنوعہ ڈور استعمال کرنے کی اطلاعات نہیں ملیں۔ لاہور بھر میں دھاتی تار استعمال نہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسفارمر بھی محفوظ رہے ۔ چھتوں پر اللہ تعالی کے فضل وکرم سے پیشگی اقدامات موثر ثابت ہوئے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ سیف بسنت کا تصور لاہور کے بعد دوسرے شہروں میں بھی اپنایا جائے گا۔ لبرٹی اور اندرون شہر سمیت ہر علاقے میں 200 کلینک آن ویل،21 فیلڈ ہسپتال بھی متعین تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا کو ایک لاکھ پر جمعہ کو مریم نواز کے دوران ہفتے کو
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔