لاہور میں پتنگ بازی پر دوبارہ پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) پولیس نے بسنت فیسٹول کے اختتام پر پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
سی سی پی او لاہور کے مطابق شہری پتنگ بازی کے دوران قانون کی خلاف ورزی سے گریز کریں اور اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں، انہوں نے واضع کیا ہے کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ سی سی پی او لاہور نے اپنے افسران کو ہدایت کی ہے کہ فیلڈ میں سخت چیکنگ جاری رکھیں اور پتنگ بازی پر کڑی نظر رکھیں
پولیس نے دکانداروں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت سے گریز کریں، جبکہ پتنگ اور ڈور کی غیر قانونی ترسیل پولیس کے لیے قابلِ دست اندازی جرم تصور کی جائے گی۔
بلال صدیق کمیانہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ غیر قانونی پتنگ بازی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، لہذا ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ سی سی پی او لاہور نے والدین سے بھی کہا ہے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔
س پابندی کا مقصد فیسٹول کے دوران ممکنہ حادثات سے بچاؤ اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ پولیس کی جانب سے فیلڈ میں سخت نگرانی جاری ہے تاکہ بسنت کے اختتام کے بعد بھی پتنگ بازی کے خطرات سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پتنگ بازی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔