Nawaiwaqt:
2026-07-24@01:08:45 GMT

اس سال رمضان میں کتنے روزے ہوں گے

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

اس سال رمضان میں کتنے روزے ہوں گے

دبئی : فلکیاتی ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ رمضان 2026 کے آغاز پر اختلاف کا امکان ہے. تاہم رمضان میں 29 روزے ہوں گے یا 30 ؟

تفصیلات کے مطابق فلکیاتی حسابات اور سائنسی ڈیٹا کے تحت رواں سال رمضان المبارک کے آغاز کی تاریخوں میں اسلامی ممالک کے درمیان فرق کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف جغرافیائی مقامات اور چاند دیکھنے کے روایتی و سائنسی طریقوں کے باعث کچھ ممالک میں پہلا روزہ 18 فروری اور بعض میں 19 فروری کو ہو سکتا ہے۔عرب یونین برائے فلکیات و خلائی سائنسز کے رکن اور امارات فلکیاتی سوسائٹی کے چیئرمین ابراہیم الجروان نے بتایا کہ رمضان المبارک کے چاند کی پیدائش منگل 17 فروری 2026 کو پاکستانی وقت کے مطابق شام کے وقت ہوگی اور پیدائش کے فوراً بعد چاند غروب ہو جانے کی وجہ سے اس روز انسانی آنکھ سے چاند دیکھنا تقریباً ناممکن ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ قوی امکان ہے کہ بدھ 18 فروری کی شام چاند واضح نظر آئے گا.

جس کے بعد پہلا روزہ جمعرات 19 فروری کو ہوگا۔رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کا مہینہ 29 دن پر مشتمل ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ آغاز میں اختلاف ہو سکتا ہے.تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ عید الفطر کے موقع پر زیادہ تر اسلامی ممالک میں اتفاق ہوگا اور عید الفطر بروز جمعہ 20 مارچ کو منائی جائے گی۔ماہرین نے رواں سال کے روزوں اور موسم کے حوالے سے درج ذیل تفصیلات بھی شیئر کیں ، جس کے تحت آغاز میں روزے کا دورانیہ 12 گھنٹے 46 منٹ ہوگا جو مہینے کے اختتام تک 13 گھنٹے 25 منٹ تک پہنچ جائے گا۔فلکیاتی ماہرین کے مطابق جغرافیائی فرق کے باعث یو اے ای کے مختلف علاقوں میں سحری اور افطار کے اوقات میں 20 منٹ تک کا فرق آ سکتا ہے۔ مشرقی ساحلی علاقوں میں افطار نسبتاً جلد جبکہ مغربی علاقوں میں کچھ دیر سے ہوگا۔موسمی حوالے سے بتایا گیا رمضان کا آغاز خوشگوار موسم میں ہوگا تاہم مہینے کے آخر تک گرمی میں معمولی اضافہ متوقع ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل