Nawaiwaqt:
2026-06-02@23:42:08 GMT

اس سال رمضان میں کتنے روزے ہوں گے

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

اس سال رمضان میں کتنے روزے ہوں گے

دبئی : فلکیاتی ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ رمضان 2026 کے آغاز پر اختلاف کا امکان ہے. تاہم رمضان میں 29 روزے ہوں گے یا 30 ؟

تفصیلات کے مطابق فلکیاتی حسابات اور سائنسی ڈیٹا کے تحت رواں سال رمضان المبارک کے آغاز کی تاریخوں میں اسلامی ممالک کے درمیان فرق کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف جغرافیائی مقامات اور چاند دیکھنے کے روایتی و سائنسی طریقوں کے باعث کچھ ممالک میں پہلا روزہ 18 فروری اور بعض میں 19 فروری کو ہو سکتا ہے۔عرب یونین برائے فلکیات و خلائی سائنسز کے رکن اور امارات فلکیاتی سوسائٹی کے چیئرمین ابراہیم الجروان نے بتایا کہ رمضان المبارک کے چاند کی پیدائش منگل 17 فروری 2026 کو پاکستانی وقت کے مطابق شام کے وقت ہوگی اور پیدائش کے فوراً بعد چاند غروب ہو جانے کی وجہ سے اس روز انسانی آنکھ سے چاند دیکھنا تقریباً ناممکن ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ قوی امکان ہے کہ بدھ 18 فروری کی شام چاند واضح نظر آئے گا.

جس کے بعد پہلا روزہ جمعرات 19 فروری کو ہوگا۔رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کا مہینہ 29 دن پر مشتمل ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ آغاز میں اختلاف ہو سکتا ہے.تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ عید الفطر کے موقع پر زیادہ تر اسلامی ممالک میں اتفاق ہوگا اور عید الفطر بروز جمعہ 20 مارچ کو منائی جائے گی۔ماہرین نے رواں سال کے روزوں اور موسم کے حوالے سے درج ذیل تفصیلات بھی شیئر کیں ، جس کے تحت آغاز میں روزے کا دورانیہ 12 گھنٹے 46 منٹ ہوگا جو مہینے کے اختتام تک 13 گھنٹے 25 منٹ تک پہنچ جائے گا۔فلکیاتی ماہرین کے مطابق جغرافیائی فرق کے باعث یو اے ای کے مختلف علاقوں میں سحری اور افطار کے اوقات میں 20 منٹ تک کا فرق آ سکتا ہے۔ مشرقی ساحلی علاقوں میں افطار نسبتاً جلد جبکہ مغربی علاقوں میں کچھ دیر سے ہوگا۔موسمی حوالے سے بتایا گیا رمضان کا آغاز خوشگوار موسم میں ہوگا تاہم مہینے کے آخر تک گرمی میں معمولی اضافہ متوقع ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے