اس سال رمضان میں کتنے روزے ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
دبئی : فلکیاتی ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ رمضان 2026 کے آغاز پر اختلاف کا امکان ہے. تاہم رمضان میں 29 روزے ہوں گے یا 30 ؟
تفصیلات کے مطابق فلکیاتی حسابات اور سائنسی ڈیٹا کے تحت رواں سال رمضان المبارک کے آغاز کی تاریخوں میں اسلامی ممالک کے درمیان فرق کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف جغرافیائی مقامات اور چاند دیکھنے کے روایتی و سائنسی طریقوں کے باعث کچھ ممالک میں پہلا روزہ 18 فروری اور بعض میں 19 فروری کو ہو سکتا ہے۔عرب یونین برائے فلکیات و خلائی سائنسز کے رکن اور امارات فلکیاتی سوسائٹی کے چیئرمین ابراہیم الجروان نے بتایا کہ رمضان المبارک کے چاند کی پیدائش منگل 17 فروری 2026 کو پاکستانی وقت کے مطابق شام کے وقت ہوگی اور پیدائش کے فوراً بعد چاند غروب ہو جانے کی وجہ سے اس روز انسانی آنکھ سے چاند دیکھنا تقریباً ناممکن ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ قوی امکان ہے کہ بدھ 18 فروری کی شام چاند واضح نظر آئے گا.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔