ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: اہم ٹیم کے کپتان میچ کے دوران زخمی، ایونٹ سے باہر ہونیکا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اپنے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پُر مسرت آغاز کے موقع پر اٹلی کے کپتان وین میڈسن اپنے کندھے پر چوٹ لگوا بیٹھے۔
کولکتہ کے ایڈنز گارڈ میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ساتویں میچ میں اٹلی کے کپتان اسکاٹ لینڈ کے خلاف چوتھے اوور میں اپنا کندھا اتروا بیٹھے۔ انجری کے بعد وہ گراؤنڈ سے باہر چلے گئے اور اب ان کے باقی میچز میں بھی شرکت مشکوک ہوگئی ہے۔
اٹلی کے کوچ جان ڈیویسن نے میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا کندھا اتر گیا ہے۔ فزیو نے معاملات سنبھالنے کی کوشش کی لیکن کپتان کو چوٹ کی نوعیت دیکھنے کے لیے مزید اسکین کرانے ہوں گے۔
کوچ نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ کپتان کی باقی ٹورنامنٹ میں شرکت مشکوک ہوگئی ہے۔ تاہم، وہ یہ نہیں کہیں گے کہ وہ باہر ہوگئے ہیں۔
واضح رہے گروپ سی کے میچ میں اسکاٹ لینڈ نے اٹلی کو 73 رنز سے شکست دے کر ٹیبل پر دوسری پوزیشن حاصل کرلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔