Islam Times:
2026-06-02@22:31:50 GMT

پانی کی عدم فراہمی سے کراچی کی صنعتوں کا پہیہ رُک گیا

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

پانی کی عدم فراہمی سے کراچی کی صنعتوں کا پہیہ رُک گیا

صدر کراچی چیمبر ریحان حنیف کے مطابق کراچی واٹر بورڈ کی ناقص کارکردگی سے صنعتی پہیہ مکمل طور پر متاثر ہوگیا ہے، جس سے صنعتی زونز میں صنعتی پیداوار کی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے تین صنعتی علاقوں سائٹ، کورنگی اور فیڈرل بی ایریا میں پانی کی عدم فراہمی کیوجہ سے انڈسٹریز بند ہوگئیں، جس پر چیمبر نے وزیراعلیٰ کو خط لکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے صںعتی علاقوں میں گزشتہ 4 روز سے پانی کی عدم فراہمی پر کراچی چیمبر آف کامرس کا وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ ہوا۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ریحان حنیف کے مطابق صنعتی زونز میں پانی کی ترسیل دوبارہ بحال کرنے کیلئے وزیر اعلی سندھ نے گرین سگنل دیدیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے منگل تک صنعتی زونز کو پانی کی فراہمی بحال کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

ریحان حنیف کے مطابق کراچی واٹر بورڈ کی ناقص کارکردگی سے صنعتی پہیہ مکمل طور پر متاثر ہوگیا ہے، جس سے صنعتی زونز میں صنعتی پیداوار کی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ ریحان حنیف کا کہنا ہے کہ متاثرہ صنعتی زونز میں منگل تک پانی کی فراہمی بحال نہ ہو سکی تو وزیراعلیٰ سندھ سے دوبارہ رابطہ کرینگے، کیونکہ پانی کی ترسیل بند ہو جانے سے سینکڑوں فیکٹریوں میں کام بند ہوگیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صنعتی زونز میں ریحان حنیف کے مطابق سے صنعتی پانی کی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے