سندھ کے سرکاری گرلز کالجوں میں فوٹو گرافی پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
طالبات کی فوٹو گرافی کا سوشل میڈیا کے بعض پلیٹ فارم پر غلط استعمال کیا گیا ہے، جو معاشرتی و مذہبی اقدار اور قانون کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے، جس کی باقاعدہ شکایات محکمہ کالج ایجوکیشن کو موصول ہوئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ نے سرکاری گرلز کالجوں میں عکس بندی (فوٹو گرافی) پر باقاعدہ پابندی عائد کر دی۔ محکمہ کالج ایجوکیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے کالجوں کے پرنسپلز کو اطلاع دی گئی ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں انہیں انضباطی یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اسپیشل سیکریٹری کالجز سندھ کی جانب سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے، جبکہ اس ایڈوائزری کی بنیاد پر ریجنل ڈائریکٹر کالج ایجوکیشن کراچی نے شہر کے تمام سرکاری کالجوں کو خطوط بھی جاری کر دیئے ہیں۔ خط کے مطابق طالبات کی فوٹو گرافی کا سوشل میڈیا کے بعض پلیٹ فارم پر غلط استعمال کیا گیا ہے، جو معاشرتی و مذہبی اقدار اور قانون کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے، جس کی باقاعدہ شکایات محکمہ کالج ایجوکیشن کو موصول ہوئی ہیں۔
خط کے مطابق اسپیشل سیکریٹری ایجوکیشن نے بعض کالجوں میں خواتین اساتذہ و طالبات کی غیر مجاز فوٹو گرافی اور اس کے فیس بک، واٹس ایپ دیگر ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم پر پھیلاؤ یا تشہیر کا سختی سے نوٹس لیا ہے، لہٰذا کالجوں میں اس قسم کی سرگرمیوں پر سختی پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ پروفیسر قاضی ارشد کے جاری خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جن کالجوں میں اس پابندی کے باوجود اس کی خلاف ورزی کی گئی تو وہاں کے ذمہ دار پرنسپلز اور عملے کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محکمہ کالج ایجوکیشن فوٹو گرافی کالجوں میں
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔