بھارتی ریاست منی پور میں پھر کشیدگی‘ افراتفری‘ پولیس کی فائرنگ‘ 2 افراد ہلاک‘ 10 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260210-08-23
منی پور (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست منی پور میں ایک بار پھر نسلی کشیدگی اور افراتفری کی لہر پیدا ہو گئی ہے جس نے پوری ریاست کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، 5 اور 6 فروری کو ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں نے تشدد اور خونی جھڑپوں کی شکل اختیار کر لی۔ کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر جب کوکی قبائل نے اکثریتی ضلع میں اہم “امپھال چورا چند پور روڈ” بند کر کے احتجاج کیا تو سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے بجائے ان پر سیدھی گولیاں چلا دیں۔سیکورٹی فورسز کی اس وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک جبکہ 10 سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں، جنہیں قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست میں ہندو قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور سرکاری بھرتیوں میں مخصوص طبقوں کو ترجیح دینے کی پالیسیوں نے نسلی تناؤ کو مزید ہوا دی ہے۔ منی پور کی موجودہ صورتحال نے اسے ناگا لینڈ اور میزو رام جیسی دیگر نظر انداز کی گئی شمال مشرقی ریاستوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جہاں وفاقی حکومت کی عدم توجہی کے باعث بے چینی بڑھ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: منی پور
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں