Jasarat News:
2026-07-24@08:08:55 GMT

شاخیں نہیں جڑ کاٹیے

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260210-03-7
2026 شروع ہوئے ابھی صرف ایک مہینہ اور 9 دن ہی ہوئے ہیں اور اتنے مختصر عرصے میں کراچی کے پانچ بڑے اسپتالوں میں کتوں کے کاٹنے کے پانچ ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ریبیز کے تین افراد شکار ہوئے جن میں سے دو جہاں بحق ہو گئے جبکہ ایک نوجوان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ بڑی تعداد میں بچوں کے دل میں کتوں کا ایسا خوف بیٹھ گیا ہے کہ وہ گھروں سے نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں جو بچے باہر جاتے ہیں ان کے والدین اس وقت تک تشویش میں مبتلا رہتے ہیں جب تک وہ بخیریت گھر واپس نہیں آجاتے، فجر کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد جانے والے شہری خاص طور پر کتوں کے ممکنہ حملے سے ڈرتے رہتے ہیں، پولیو ورکرز کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے گھر گھر جانا ہوتا ہے وہ بھی آوارہ کتوں کی بہتات سے ہراساں ہیں، قائد آباد میں پولیو ورکرز کی حفاظت پر مامور 21 سالہ پولیس اہلکار کو آوارہ کتے نے کاٹ لیا جس سے اسے گہرا زخم آیا، علاج کے لیے اسے اسپتال منتقل کیا گیا، اس سے قبل کورنگی میں خاتون پولیو رضاکار کو بھی آوارہ کتے نے کاٹ لیا تھا گزشتہ سال اکتوبر میں بھی ایک خاتون پولیو ورکر کو کتے نے کاٹ کھایا تھا۔

چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت ریبیز کنٹرول پروگرام سے متعلق اجلاس ہوا جس میں ریبیز کے علاج، سہولتوں کی دستیابی، عملے کی تربیت اور عوامی آگاہی کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا گیا آصف حیدر شاہ نے صوبے بھر میں 300 ریبیز سینٹرز کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا، انہوں نے ہدایت کی کہ صوبے میں ہر 10 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ریبیز کے علاج کی سہولت دستیاب ہونی چاہیے تاکہ کتے کاٹے کے واقعہ کی صورت میں فوری طور پر طبی امداد دینا ممکن ہو سکے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ریبیز سینٹرز کو اینٹی ویکسین، ضروری ادویات اور تربیت یافتہ انسانی وسائل سے لیس کیا جائے گا، تمام ادویات اور ویکسین وافر مقدار میں خریدی جائیں گی تاکہ علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ یا کمی نہ آسکے۔

حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مذکورہ بالا تمام اقدامات قابل تحسین ہیں، یہ اقدامات ضرور کیے جانے چاہییں لیکن کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ شاخیں کاٹنے کے ساتھ ساتھ مسئلے کی جڑ کاٹنے کا عمل بھی شروع کیا جائے جب سے پیپلز پارٹی کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے کچھ با اثر خواتین کا کہنا ہے کہ کتوں کو مارنے سے ان کے حقوق متاثر ہوں گے، اس طبقے کے دباؤ کی وجہ سے کتوں کے حقوق پر اتنا زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ انسانوں کے لیے جینا مشکل ہو گیا ہے، آوارہ کتوں کے مارنے پر پابندی لگا دی گئی ہے، زور دیا جا رہا ہے کہ مارنے کے بجائے ویکسی نیشن کے ذریعے انہیں خصی کر دیا جائے برسوں گزر گئے ہیں کتوں کی تعداد کم ہونا تو کجا بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، کتوں کو مارنے کی مہم نہیں چلائی جاتی، کسی کی مجال نہیں کہ آوارہ کتوں کی آوارگی میں خلل ڈال سکے، کوئی کتا کسی انسان کو کاٹتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ انسانوں کی طرح شرافت سے کٹوا لے البتہ حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ کتے کے کاٹنے کے بعد اسے علاج کی مکمل سہولت دی جائے گی۔

بھیا! پاکستان یورپ میں نہیں ایشیا میں واقع ہے، یہاں کے اپنے مسائل ہیں انہیں حل کرنے کے لیے ہمیں اپنی عقل سے ہی کام لینا ہوگا، یورپی ملکوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی اندھا دھند نقالی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ دو چار مرتبہ پورے صوبے میں بڑے پیمانے پر کتے مار مہم چلائی جائے جیسے پہلے چلائی جاتی تھی اس کے بعد جو کچھ کرنا ہے کر لیا جائے ارباب اختیار صرف اتنا سوچ لیں کہ اگر انہیں یا ان کے بچوں میں سے کسی کو کوئی کتا کاٹ لے تو ان کے دل پر کیا گزرے گی؟ کتے کے کاٹنے کے وقت کی دہشت، پھر اس کے انتہائی تکلیف دہ علاج کی اذیت کو خیال میں لایا جائے تو شاید حکومت اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور ہو جائے ورنہ یہ تو یقینی ہے کہ آوارہ کتے خواص کو نہیں صرف عام لوگوں کو ہی کاٹتے ہیں۔

چیف سیکرٹری سندھ سے ہماری گزارش ہے کہ صوبے کی تمام یونین کونسلوں کو آوارہ کتے مارنے کی مہم چلانے کا پابند کیا جائے اور اس مقصد کے لیے انہیں مکمل وسائل فراہم کیے جائیں جو یقینا ان وسائل سے بہت کم ہوں گے جو کتے کے کاٹنے کے بعد علاج کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح صوبے بھر میں مکھیوں اور مچھروں کے خاتمے کے لیے بھی مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں، خاص موسم اور مواقع پر مہم چلانا بھی ضروری ہے لیکن یہ کام سال بھر جاری رہنا چاہیے کیونکہ مکھیوں اور مچھروں کی وجہ سے ایک دو نہیں بہت زیادہ بیماریاں جنم لیتی ہیں، لوگوں کو سخت تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے، بہت بڑے پیمانے پر سرکاری اور غیر سرکاری وسائل ضائع ہوتے ہیں، اس سے کہیں بہتر ہے کہ صفائی ستھرائی کے

انتظامات پر زیادہ توجہ دی جائے، جہاں بھی سیوریج سسٹم خراب ہے وہاں فوری طور پر اسے ٹھیک کیا جائے، سیوریج سسٹم ٹھیک رہے گا تو سڑکیں بھی کم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گی۔

اسی طرح ہر ممکن کوشش کی جائے کہ کچرا روز کے روز اٹھایا جائے، ہر گلی محلے میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، سارا ماحول خراب ہوتا ہے، بیماریاں پھیلتی ہیں کئی کئی روز بعد کچرا اٹھانے کی نوبت آتی، ہے عوام کو بھی آگاہ کیا جائے کہ وہ گلیوں میں کوڑا نہ پھینکیں، کراچی میں زیادہ آبادی فلیٹوں میں رہتی ہے، انہیں بڑا آسان لگتا ہے کہ گھر کا کچرا اٹھایا اور بالکونی یا کھڑکی سے باہر پھینک دیا لیکن اس آسانی کے بعد بیماریوں کی صورت میں جن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے انہیں اس کا ادراک نہیں ہوتا اس آگہی مہم کے حوالے سے تمام ٹی وی چینلوں کو مختصر اور مؤثر پیغامات پر مبنی ویڈیوز چلانے کا پابند کیا جائے جب نجی چینل نہیں ہوتے تھے صرف پاکستان ٹیلی ویژن کی اجارہ داری تھی اس وقت ’’درست‘‘ اور ’’غلط‘‘ کے عنوان سے ایسی نشریات ہوتی تھیں اسی طرز کی مہم پھر شروع کی جائے، امید ہے کہ نجی ٹی وی چینل وسیع تر قومی مفاد میں یہ مہم مفت چلانے پر تیار ہو جائیں گے۔ بیماریوں کی روک تھام اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے ایک انتہائی اہم شعبہ کھیلوں کا بھی ہے صوبے میں کھیلوں کے جتنے زیادہ میدان ہوں گے امید ہے اسپتالوں کی ضرورت اتنی ہی کم، اور ترقی کی رفتار تیز تر ہو جائے گی اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ جو ممالک اولمپکس اور کھیلوں کے دیگر عالمی مقابلوں میں زیادہ میڈلز حاصل کرتے ہیں وہ سب کے سب ترقی یافتہ ممالک ہیں یعنی کھیل اور ذہنی و جسمانی صحت کا براہ راست تعلق ہے۔

احمد حسن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے کاٹنے کے ا وارہ کتے کیا جائے کتوں کے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر