مہنگائی میں کمی کے باوجودسخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھی ،جمیل احمد
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
aکراچی (کامرس رپورٹر )گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مہنگائی میں حالیہ کمی کے باوجود مرکزی بینک اپنی سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل عالمی غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ ملکی دباؤ کے پیشِ نظر پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے منعقدہ العلا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ مرکزی بینک کے اقدامات فعال، بروقت اور انتہائی مؤثر ہونے چاہئیں تاکہ یہ اپنے حتمی مقصد کے حصول کو ممکن بنا سکے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کی ذمہ داری کا سب سے مشکل حصہ پیشگی اقدامات کرنا ہوتا ہے۔مرکزی بینک کے سربراہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح حالیہ مہینوں میں کم رہی ہے، یہاں تک کہ یہ مرکزی بینک کے مقررہ ہدف 5 سے 7 فیصد سے بھی نیچے آگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم شرحِ سود کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جو کہ کافی بلند سطح پر ہے، اس وقت ریئر ایفیکٹو انٹرسٹ ریٹ بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ یہ سوال پیدا ہوگا کہ ہم ترقی اور کاروبار کو سپورٹ کرنے کے بجائے بلند شرحِ سود کیوں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیکن بہت سے اسٹیک ہولڈرز یہ نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے، کیونکہ بہت سی ایسی متوقع عالمی اور مقامی تبدیلیاں ہیں جو مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اور بالآخر شرح سود جو اس وقت زیادہ لگ رہی ہے، ہوسکتا ہے مستقبل میں اتنی زیادہ نہ رہے۔گورنر نے اعتراف کیا کہ مرکزی بینک کے لیے بعض اوقات اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر معاشی نمائندوں کو اس بات پر قائل کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس خیال کو تسلیم کر لیں کہ شرحِ سود کو صرف اس لیے بلند رکھا جا رہا ہے کہ ’کچھ (برا) ہونے والا ہے اور ہمیں اس صورتحال سے نمٹنا ہو گا۔گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2026 کی اپنی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں بنیادی پالیسی ریٹ کو 10.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کے جمیل احمد
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔