data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

aکراچی (کامرس رپورٹر )گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مہنگائی میں حالیہ کمی کے باوجود مرکزی بینک اپنی سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل عالمی غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ ملکی دباؤ کے پیشِ نظر پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے منعقدہ العلا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ مرکزی بینک کے اقدامات فعال، بروقت اور انتہائی مؤثر ہونے چاہئیں تاکہ یہ اپنے حتمی مقصد کے حصول کو ممکن بنا سکے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کی ذمہ داری کا سب سے مشکل حصہ پیشگی اقدامات کرنا ہوتا ہے۔مرکزی بینک کے سربراہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح حالیہ مہینوں میں کم رہی ہے، یہاں تک کہ یہ مرکزی بینک کے مقررہ ہدف 5 سے 7 فیصد سے بھی نیچے آگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم شرحِ سود کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جو کہ کافی بلند سطح پر ہے، اس وقت ریئر ایفیکٹو انٹرسٹ ریٹ بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ یہ سوال پیدا ہوگا کہ ہم ترقی اور کاروبار کو سپورٹ کرنے کے بجائے بلند شرحِ سود کیوں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیکن بہت سے اسٹیک ہولڈرز یہ نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے، کیونکہ بہت سی ایسی متوقع عالمی اور مقامی تبدیلیاں ہیں جو مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اور بالآخر شرح سود جو اس وقت زیادہ لگ رہی ہے، ہوسکتا ہے مستقبل میں اتنی زیادہ نہ رہے۔گورنر نے اعتراف کیا کہ مرکزی بینک کے لیے بعض اوقات اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر معاشی نمائندوں کو اس بات پر قائل کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس خیال کو تسلیم کر لیں کہ شرحِ سود کو صرف اس لیے بلند رکھا جا رہا ہے کہ ’کچھ (برا) ہونے والا ہے اور ہمیں اس صورتحال سے نمٹنا ہو گا۔گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2026 کی اپنی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں بنیادی پالیسی ریٹ کو 10.

5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے برعکس تھا کیونکہ ماہرین اور سرمایہ کار کلیدی شرحِ سود میں کمی کی توقع کر رہے تھے۔اسی دوران جمیل احمد نے اس بات پر زور دیا کہ نافذ کردہ پالیسیوں کی بدولت مرکزی بینک اپنا اعتبار بحال کرنے میں کامیاب رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیشہ ور تجزیہ کاروں کو دیکھیں، وہ سب کہہ رہے ہیں کہ اس سال اور اگلے سال بھی مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہے گی۔ تو یہ وہ اعتبار ہے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں، مارکیٹ اس پر یقین کررہی ہے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کے جمیل احمد

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا