نگران وزیر اطلاعات گلگت بلتستان غلام عباس کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اپنے انٹرویو میں نگران وزیر اطلاعات گلگت بلتستان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے جی بی کے بارے میں تحریری مطالبات مانگے ہیں، جس پر حکومت کام کر رہی ہے اور جلد یہ مطالبات وفاق کے سامنے رکھے جائیں گے۔ متعلقہ فائیلیںغلام عباس گلگت بلتستان کے نگران وزیر اطلاعات و انفارمیشن ٹیکنالوجی ہیں۔ انکا تعلق سکردو سے ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور گذشتہ ایک دہائی سے زائد کا عرصہ تک صحافت کے شعبے سے منسلک رہے اور ملک کے معروف انگریزی روزناموں میں خدمات انجام دیں۔ حال ہی میں جی بی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں نگران کابینہ میں شامل کیا گیا۔ انکے پاس وزارت اطلاعات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قمدان ہے۔ اسلام ٹائمز نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات، نگران کابینہ کا پہلے اجلاس سمیت دیگر امور پر انکا انٹرویو کیا ہے۔ اپنے انٹرویو میں غلام عباس کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے بارے میں ابھی کوئی واضح تاریخ نہیں دی جا سکتی، کیونکہ صوبائی الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔ انکا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم پیشرفت ہو رہی ہے اور گلگت بلتستان کو یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) سے 800 ملین روپے ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے، جسکے بعد خطے میں مواصلات اور انٹرنیٹ کا نظام بہتر ہو جائیگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے جی بی کے بارے میں تحریری مطالبات مانگے ہیں، جس پر حکومت کام کر رہی ہے اور جلد یہ مطالبات وفاق کے سامنے رکھے جائیں گے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کہنا تھا کہ ہے اور
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔