کرکٹ جیت گئی، دوست ممالک کی سفارت کاری کے بعد پاکستان کا بھارت سے میچ کھیلنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
حکومت نے قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے باضابطہ طور پر پی سی بی، آئی سی سی اور بی سی بی کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کیا۔اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی سی بی کو ارسال کی گئی باضابطہ درخواستوں اور اس ضمن میں سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور دیگر رکن ممالک کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات کا بھی جائزہ لیا۔ ان مراسلات میں پاکستان سے حالیہ درپیش چیلنجز کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت نے بی سی بی کے صدر امین الاسلام کے بیان کو بھی نوٹ کیا۔ پاکستان برادر ملک بنگلادیش کی جانب سے اظہار تشکر کو نہایت گرمجوشی اور خلوص کے ساتھ قبول کرتا ہے، پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہےکہ وہ بنگلا دیش کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔اعلامیے کے مطابق آج شام وزیراعظم کی سری لنکن صدر سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، خوشگوار اور دوستانہ بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس امر کو یاد کیا کہ پاکستان اور سری لنکا ہمیشہ خصوصاً مشکل اوقات میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہے ہیں۔ سری لنکن صدر نے وزیر اعظم سے موجودہ معاملےکو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے سنجیدہ غور و فکر کی درخواست کی۔اعلامیے کے مطابق دوست ممالک کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے ہدایت کی کہ پاکستان قومی کرکٹ ٹیم 15 فروری 2026 کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے اپنے مقررہ میچ میں شرکت کرے۔حکومت پاکستان کا کہنا ہے یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ اور کھیل کے فروغ کےلیے کیا گیا ہے۔حکومت پاکستان نے وزیراعظم اور قوم کی جانب سے گرین شرٹس کےلیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔