لاہور (نوائے وقت رپورٹ + نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے عالمی بنک کے صدر اجے بنگا نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے عالمی بینک کے صدر اور وفد کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں صحت، تعلیم، اپنی چھت، اپنا گھر، ستھرا پنجاب اور کلائمیٹ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کی ورلڈ بینک اور پنجاب کے درمیان شراکت داری پر بات چیت کی گئی۔ عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے فلاحی پراجیکٹس کو سراہا اور پنجاب میں جاری ٹورازم،ایجوکیشن، ہیلتھ، سکل ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کو قابل تحسین قرار دیا۔ ملاقات میں پنجاب میں مختلف شعبوں میں ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے پراجیکٹس کاجائزہ لیا گیا۔عالمی بنک کے وفد نے مستقبل میں موسمیاتی لچک، ڈیجیٹل گورننس اور جامع ترقی کے لیے سپورٹ اور سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی۔ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت عالمی بینک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، ان شعبوں میں خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ پنجاب ورلڈ بینک کے ساتھ مالی استحکام اور قابل عمل کاروباری ماڈلز کے ساتھ مسلسل تعاون کا خواہاں ہے۔ پنجاب حکومت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں، گورننس اور زراعت میں بہتری کے لیے مختلف اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد صوبے میں کارکردگی، شفافیت اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔ نواز شریف آئی ٹی سٹی، عالمی آئی ٹی سرٹیفیکیشنز، اور ای-پروکیورمنٹ جیسے اقدامات گورننس سسٹم میں بہتری لا رہے ہیں۔مریم نواز نے کامیاب بسنت فیسٹیول پر اظہار تشکرکیااور انتظامیہ،پولیس سمیت 15 ڈیپارٹمنٹ کو شاباش دی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اعلی سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو سیلوٹ کرنے کے بعد نواز شریف کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں۔ نوازشریف نے تہواروں کو جوڑنے خوشیاں منانے کا ویژن دیا۔ پنجاب کے عظیم کلچر کی بحالی کا سہرا لاہور کے عوام کے سر ہے۔ اسلام آباد میں سانحہ پیش آنے پر بسنت متعلق سرگرمیاں منسوخ کر دی، دل دکھی اور رنجیدہ ہے۔ ملک دشمن یہاں امن، سکون، چین اور خوشیاں نہیں دیکھ سکتے۔ ہم ڈریں گے نہیں بلکہ ملک دشمنوں پر قابو پاکر دم لیں گے۔ جنریشن زی کے لوگوں نے پہلی مرتبہ اندرون لاہور کا رخ کیا اورلیپ ٹاپ، آئی پیڈ چھوڑ کر خوشی منائی۔ آئی جی،کمشنر، سی سی پی او، ڈی آئی جی، ڈی سی، تمام اسسٹنٹ کمشنروں اور پوری ٹیم کو شاباش دیتی ہوں۔ چھتوں کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کرنے پر سیف سٹی کو شاباش دیتی ہوں۔ شہر کو خوبصورت سجانے کیلئے ڈی جی پی ایچ اے راجہ منصور نے غیر معمولی کام کیا۔ محکمہ انفارمیشن نے غیر ملکی مہمانوں کے سامنے بسنت کے ذریعے خوبصورت امیج پیش کیا۔ ہائی کمشنر ز، قونصل جنرل، سفارتکاروں کی بہت بڑی تعدادبسنت منانے لاہور آئی۔ غیر ملکی میڈیا نے نہ صرف بسنت کو کور کیا بلکہ پنجاب اور پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کرتے ہوئے ہیڈ لائن لگائیں۔ میڈیا نے جس طرح بسنت کو کور کیا ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ عوام نے احتجاج کی کال دینے والوں کی طرف پلٹ کر دیکھا تک نہیں۔ ارب پتیوں کی کال غریب عوام نے مسترد کر دی۔ عوام نے بدتہذیبی کے کلچر کو نظر انداز کر کے بسنت کا کلچر اپنایا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ سیفٹی راڈ کے بغیر کوئی بائیک نظر نہیں آئی۔9، 10ہزار بائیک کو بغیر سیفٹی راڈ جیو ٹیگ کر کے الرٹ کیاگیا تو انہوں نے خود لگا دیئے۔ ٹریفک پولیس نے زور زبردستی نہیں بلکہ عوام کو پیار کیساتھ سیفٹی راڈ لگانے پر آمادہ کیا اور لوگوں نے پیار محبت سے رسپانس دیا۔کراچی، کے پی کے،کشمیر،گلگت بلتستان سے لوگ آئے اور بسنت کی خوشیاں منائی۔ عوام نے منفی رویوں اور گالم گلوچ کو یکسر مسترد کردیا۔ اپنے مفادات کیلئے ہڑتال کی کال دی گئی۔ پی ٹی آئی کی عیاری نہیں چلی، پنجاب میں کسی بھی جگہ ہڑتال نہیں ہوئی۔ پنجاب میں زیرو شٹر ڈاؤن اور زیرو پہیہ جام تھا۔ پنجاب میں زیرو ہڑتال تھی، اتوار کے دن لاہور میں دکانیں مکمل طور پر بند ہوتی ہیں۔ عوام نے انتشاری اور فسادی ٹولے کی ہڑتال کی کال کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ جہاں خواتین خودکو محفوظ تصور نہیں کر تی وہ باہر نہیں آتی۔ایک جماعت جو شعور دینے کی دعویدار ہے ان کے جلسوں میں مرد رکاوٹیں پھلانگ کر خواتین کے انکلیوزرمیں گھس جاتے تھے۔ پہلی مرتبہ پتنگ بازی کے دوران ڈور سے گلا کٹنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔پنجاب پولیس میں مزید اصلاحات کرنے جارہے ہیں۔  ملک بھر سے لوگ بسنت منانے لاہور آئے، بیرون ملک سے آنے والے لوگوں کی بے حد مشکور ہوں۔نوجوان نسل نے پہلی بار لاہور کی کھلی فضا میں محفوظ بسنت منائی۔ اوپر سے نیچے تک سٹریٹ وینڈر نے بھی کمائی کی۔انہوں نے کہا کہ رمضان سے پہلے بسنت کا تہوار لوگوں کے لئے کمائی کا اچھا ذریعہ بنا۔ دوسرے شہروں کی ٹکٹ مل رہی تھیں،کراچی سے لاہورکے لئے ٹکٹ نہیں مل ری تھی۔ 10لاکھ گاڑیاں داخل ہونے کے باوجود ٹریفک کا انتظام کمال تھا۔ 200کلینک آن ویل اور 25 فیلڈ ہسپتال عوام کی خدمت کے لئے موجود تھے۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر اور سیکرٹری نادیہ ثاقب کو مبارکباد دیتی ہوں۔ سابق آئی جی عثمان انور نے بہت اچھا کام کیا۔ لاکھوں لوگ بسنت کے موقع پر گھروں سے نکلے،اس کے باوجود خواتین کی ہراسانی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مجھے ریکویسٹ آئی کہ پتنگ بازی کا وقت بڑھا دیں میں نے صبح پانچ بجے تک بڑھا دیا۔3روز میں بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کی بھی مشکور ہوں۔میں سب سے زیادہ جین زی کیلئے خوش ہوں۔ دھماکے کے متاثرین کے ساتھ ہیں، زخمیوں کی صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مریم نواز بینک کے عوام نے کی کال نہیں ا کے لئے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف