سولر صارفین کے لیے بُری خبر، نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف، ریٹ بھی کم کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے ریٹس کم کر دیے۔
رپورٹ کے مطابق نئے ریگولیشنز 2026 کا نو ٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، نئے ریگولیشنز کے مطابق پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے ریٹس پر ہی بیچیں گے مگر نئے صارفین کے لیے نیشنل گرڈ کو بیچی گئی بجلی کے فی یونٹ ریٹ میں 17 روپے 19 پیسے کی بڑی کمی کر دی گئی ہے۔
اب نئے صارف کو اس کی فی یونٹ قیمت 3 گنا سے بھی کم یعنی 8 روپے 13 پیسے ملے گی، نئے اور پرانے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ کا بھی نیا نظام متعارف کرا دیا گیا ، صارف کا یونٹ اب سرکاری یونٹ کے برابر نہیں ہو گا، اب نیشنل گرڈ سے لی گئی ساری بجلی کی فی یونٹ قیمت حکومتی ٹیرف اور سلیبس کے حساب سے ہو گی۔
نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے لائسنس کی مدت 7 سال سے کم کر کے5 سال کر دی گئی ہے ۔
پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے مطابق ملک میں اس وقت 7 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت کے نیٹ میٹرنگ سولر سسٹم لگ چکے ہیں جبکہ 13 ہزار سے 14 ہزار میگاواٹ صلاحیت کے ایسے صارفین کا تخمینہ ہے جو آف گرڈ بجلی بناتے ہیں۔
مزید پڑھیںپاور ڈویژن کا نیٹ میٹرنگ صارفین سے متعلق اہم بیان سامنے آگیا
صارفین کی نیٹ میٹرنگ رجسٹریشن روکے جانے کا انکشاف
ماہرین کے مطابق نئے ریگولیشنز کے بعد آف گرڈ سولر لگانے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔
ملک میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی کل تعداد 4 لاکھ 66 ہزار ہے۔ پاور ڈویژن کی پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نیٹ میٹرنگ سولر صارفین کا 82 فیصد بڑے شہروں میں ہے۔
لاہور میں 24 فیصد، ملتان میں 11 فیصد، راولپنڈی میں 9 فیصد کراچی 7 فیصد اور فیصل آباد میں 6 فیصد سولر صارفین ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کے مطابق فی یونٹ
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔