WE News:
2026-07-24@01:05:27 GMT

جنوری 2026 میں ترسیلاتِ زر 3.46 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

جنوری 2026 میں ترسیلاتِ زر 3.46 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

اسٹیٹ بینک کے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر 3.46 ارب ڈالر رہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 15.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں ترسیلات کا حجم 3 ارب ڈالر تھا۔

تاہم ماہانہ بنیاد پر دسمبر 2025 کے مقابلے میں ترسیلات میں 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جب دسمبر میں ترسیلات 3.

59 ارب ڈالر تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:

مالی سال 2026 کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران ترسیلاتِ زر کا مجموعی حجم 23.2 ارب ڈالر رہا۔

واضح رہے کہ ترسیلاتِ زر کا مجموعی حجم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 20.9 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح ترسیلات میں 11.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ترسیلاتِ زر پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دینے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ان گھریلو خاندانوں کی آمدن میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جو بیرونِ ملک مقیم رشتہ داروں پر انحصار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:

دوسری جانب حکومت ترسیلاتِ زر میں پائیدار اضافے اور معاشی استحکام میں ان کے کردار کو یقینی بنانے کے لیے مراعات اور رسمی ذرائع کے فروغ پر کام کر رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق، 2009 سے پاکستان ریمیٹینس انیشی ایٹو کے تحت ترسیلات کو رسمی ذرائع سے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ان کوششوں کے نتیجے میں پاکستان ریمیٹینس انیشی ایٹونیٹ ورک میں شامل مالیاتی اداروں کی تعداد 2009 میں تقریباً 25 سے بڑھ کر 2024 میں 50 سے زائد ہو چکی ہے۔

ملک وار ترسیلاتِ زر کی تفصیل

جنوری 2026 میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے سب سے زیادہ 740 ملین ڈالر پاکستان بھیجے، یہ رقم سالانہ بنیاد پر 2 فیصد زیادہ جبکہ دسمبر کے مقابلے میں 9 فیصد کم رہی۔

متحدہ عرب امارات سے ترسیلات سالانہ بنیاد پر 12 فیصد اضافے کے ساتھ 622 ملین ڈالر سے بڑھ کر 694 ملین ڈالر ہو گئیں۔

برطانیہ سے جنوری 2026 میں 572 ملین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو دسمبر 2025 کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ جبکہ سالانہ بنیاد پر 29 فیصد اضافے کی عکاس ہیں۔

مزید پڑھیں:

امریکا میں مقیم پاکستانیوں نے جنوری میں 295 ملین ڈالر بھیجے، جو سالانہ بنیاد پر 1 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 2 فیصد کم رہے۔

یورپی یونین کے ممالک سے ترسیلاتِ زر جنوری میں 480 ملین ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر نمایاں 36 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیٹ بینک امریکا برطانیہ پاکستان ریمیٹینس انیشی ایٹو ترسیلات زر ڈالر سعودی عرب متحدہ عرب امارات یورپی یونین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک امریکا برطانیہ ترسیلات زر ڈالر متحدہ عرب امارات یورپی یونین سالانہ بنیاد پر میں ترسیلات ملین ڈالر ارب ڈالر

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف