سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی نظر بندی کیخلاف سرکاری وکیل کے حکومتی نوٹیفیکیشن پیش کرنے پر درخواستیں نمٹادیں۔

ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبروتحریک انصاف کے کارکنوں کی نظر بندی کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

درخواستگزار کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے موقف دیا کہ غیر قانونی نظر بندی کے احکامات سے 187 سے زائد فیملیز متاثر ہورہی ہیں۔ نقص امن کے الزام کے تحت کارکنان کو نظر بند کیا گیا ہے۔ کارکنان کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے۔

پولیس کی جانب سے کارکنان کے گھروں پر غیر قانونی چھاپے مارے جارہے ہیں۔ نظر بندی کا نوٹیفکیشن سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے اور طے کردہ اصولوں کیخلاف ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کردیا گیا۔

عدالت نے پی ٹی آئی کارکنوں کی نظر بندی سے متعلق دائر درخواستیں نمٹادی۔ سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایم پی اے کے کپڑے نہیں اتارے گئے، اس بدبودار نظام کے کپڑے اتارے گئے ہیں۔ سندھ بھر میں 400 سے زائد پی ٹی آئی کارکن جیلوں میں بند ہیں۔ 100 سے زائد افراد کو غیرقانونی طور پر تھانوں میں قید کیا گیا ہے۔

کورنگی میں ایم پی او کے تحت ہونے والا واقعہ شرمناک ہے۔ ایک کرمنل ایس ایس پی کو کورنگی میں لگایا گیا ہے۔ عزیز بلوچ کی جے آئی ٹی میں یہ ایس ایس پی کرمنل ثابت ہوا ہے۔ ہمارے کراچی کے صدر راجہ اظہر، فہیم خان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔ پرامن شٹر ڈاؤن پر گرفتاریوں کا کوئی جواز نہیں۔ نہ کوئی گملا ٹوٹا، نہ کوئی نقصان ہوا۔ 8 فروری 2024 کی طرح 2026 میں عوام نے گھروں میں رہ کر تاریخی احتجاج کیا۔ تھری ایم پی او کا استعمال آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

پیپلز پارٹی جمہوریت کی دعویدار ہے تو یہ کارروائیاں کیوں؟ بلاول بھٹو زرداری بتائیں کیا یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی پارٹی ہے؟

بیرسٹر علی نے طاہر نے کہا کہ ایم پی اوز غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ پریونٹو ڈیٹینشن کا اختیار صرف صوبائی کابینہ کو حاصل ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم کو ایم پی او جاری کرنے کا اختیار نہیں۔ پہلے گرفتاری، پھر پریونٹو ڈیٹینشن آئین کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی ہے۔

حکومت نے کابینہ کا فیصلہ عدالت میں پیش نہیں کیا۔ حکومت عدالت سے بھی حقائق چھپا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کارکنوں کی نظر بندی پی ٹی آئی کیا گیا گیا ہے ایم پی

پڑھیں:

سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان

فائل فوٹو

سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔

خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 

سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔

اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔

تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ