ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان نے امریکا کو جیت کے لیے 191 رنز کا ہدف دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کولمبو: آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ کے بارہویں میچ میں پاکستان نے امریکا کو جیت کے لیے 191 رنز کا ہدف دیا ہے۔
امریکا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی جس پر پاکستان کی جانب سے صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان نے اننگز کا آغاز کیا اور دونوں بلے بازوں نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے قومی ٹیم کو 54 رنز کا آغاز فراہم کیا تاہم صائم ایوب 19 رنز بنانے کے بعد کیچ آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد آنے والے بلے باز سلمان علی آغا بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 56 کے اسکور پر سلمان علی آغا بھی ایک رن بنانے کے بعد اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔
سلمان علی آغا کے آؤٹ ہونے کے بعد بابر اعظم کریز پر آئے اورانہوں نے صاحبزادہ فرحان کے ساتھ مل کر ٹیم کی کمان سنبھالی اور دونوں بلے بازوں کے درمیان تیسری وکٹ پر 81 رنز کی شراکت قائم ہوئی تاہم ٹیم کا اسکور 137 تک پہنچا تو بابر اعظم 32 گیندوں پر 46 رنز بناکر کیچ آؤٹ ہوگئے، ان کی اننگز میں چار چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
سری لنکا کے شہر کولمبو میں کھیلے جارہے ٹی 20 ورلڈ کپ کے گروپ اے کے میچ میں امریکا کے کپتان مونانک پٹیل نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔