ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام شہداء کی یاد میں شمعیں روشن
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اس موقع پر علامہ علی حسین نقوی المدنی، علامہ احسان رضی، علامہ امیر حسین ساقی، ضلعی صدر برادر سید مطہر شیرازی سمیت معزز علماء کرام، سینیئر برادران، مومنین و محبین نے شرکت کی، شرکاء نے شہداء کی یاد میں ترانہ شہادت بھی پڑھا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام شہدائے سانحہ ترلائی کلاں کی یاد میں شمعیں روشن
ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام شہدائے سانحہ ترلائی کلاں کی یاد میں شمعیں روشن
ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام شہدائے سانحہ ترلائی کلاں کی یاد میں شمعیں روشن
ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام شہدائے سانحہ ترلائی کلاں کی یاد میں شمعیں روشن
ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام شہدائے سانحہ ترلائی کلاں کی یاد میں شمعیں روشن
ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام شہدائے سانحہ ترلائی کلاں کی یاد میں شمعیں روشن
ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام شہدائے سانحہ ترلائی کلاں کی یاد میں شمعیں روشن
ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام شہدائے سانحہ ترلائی کلاں کی یاد میں شمعیں روشن
ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام شہدائے سانحہ ترلائی کلاں کی یاد میں شمعیں روشن
ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام شہدائے سانحہ ترلائی کلاں کی یاد میں شمعیں روشن
اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ضلع ملتان کی جانب سے بیاد کربلا کمیٹی ملتان کے زیراہتمام مجلس ترحیم و تکریم میں شہدائے ترلائی اسلام آباد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شب شہداء کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر شمعیں روشن کی گئیں اور شہداء کے مشن سے وفاداری کیلئے تجدید عہد کیا گیا۔ علامہ علی حسین نقوی المدنی، علامہ احسان رضی، علامہ امیر حسین ساقی، ضلعی صدر سید مطہر شیرازی سمیت معزز علماء کرام، سینیئر برادران، مومنین و محبین نے شرکت کی، شرکاء نے شہداء کی یاد میں ترانہ شہادت بھی پڑھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔