سانحہ ترلائی پوری قوم کیلئے شدید دکھ اور گہرے صدمے کا باعث ہے، ملی یکجہتی کونسل پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ پورا ملک اس سانحے پر غم اور صدمے کی کیفیت میں ہے۔ تمام قائدین نے دہشتگردی کی اس بزدلانہ کارروائی کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی۔ اسلام ٹائمز۔ سانحہ ترلائی کے افسوسناک واقعے کے پس منظر میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے اسلام آباد میں موجود قائدین کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستان، لیاقت بلوچ نے کی۔ اجلاس کی میزبانی علامہ شبیر حسن میثمی نے کی اور سید ناصر عباس شیرازی، مفتی گلزار احمد نعیمی، ڈاکٹر علی عباس نقوی، ڈاکٹر ضمیر اختر خان، عبداللہ حمید گل، نصراللہ رندھاوا، طاہر رشید تنولی، مولانا عرفان حسین، زاہد علی اخوانزادہ اور اسرار احمد نعیمی نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ پورا ملک اس سانحے پر غم اور صدمے کی کیفیت میں ہے۔ تمام قائدین نے دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر نوعیت قابلِ مذمت ہے اور دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا اصل مقصد ملک میں فساد پھیلانا، فرقہ واریت کو ہوا دینا، قومی عدم استحکام پیدا کرنا اور پاکستان کی ایٹمی و نظریاتی حیثیت کو کمزور کرنا ہے۔
اجلاس میں اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ انڈیا، اسرائیل اور امریکہ کا مشترکہ ایجنڈا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا، امتِ مسلمہ کے اتحاد کو کمزور کرنا اور معاشرے میں نفرت و فساد پھیلانا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ سانحۂ ترلائی کے بعد عوام کا حوصلہ افزا ردِعمل، شہداء کی تدفین اور زخمیوں کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی میں نہایت اہم ثابت ہوا، جو انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ اجلاس میں اس سوال پر بھی غور کیا گیا کہ دلخراش سانحہ ترلائی کے وقت وفاقی دارالحکومت میں مختلف بین الاقوامی صدور کے دورے جاری تھے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات موجود تھے، اس کے باوجود ایسا افسوسناک واقعہ کیسے پیش آیا۔؟ اس حوالے سے پوری قوم واضح جواب کی منتظر ہے۔
اجلاس نے مطالبہ کیا کہ شہداء اور زخمیوں کے لیے بروقت، مؤثر اور جامع انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ شرکاء نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ دارالحکومت ہونے کے باوجود ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ وسائل دستیاب نہیں تھے اور اس سانحے کے حوالے سے انتظامیہ کا رویہ بھی انتہائی افسوسناک رہا۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور پاکستان کے امن، استحکام اور نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر شہداء کے بلندی درجات کے لیے دعا کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اجلاس کے شرکاء نے کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔