data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا(نمائندہ خصوصی ) جماعت اسلامی بنگلادیش نے عام انتخابات کے لیے اپنا تفصیلی اور جامع انتخابی منشور جاری کردیا، جس میں کرپشن فری، فلاحی اور جمہوری ریاست کا وعدہ کیا گیا ہے۔ایک ایسے تاریک دور کے بعد جب برسوں سے اقتدار پر قابض قوتوں نے کرپشن، جبر، انتخابی دھاندلی اور ادارہ جاتی تباہی سے بنگلادیش کے چہرے پر سیاہ دھبہ لگا رکھا تھا، جماعت اسلامی خود کو ایک منظم، اصولی اور عوامی طاقت کے ساتھ بہترین متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق جماعت اسلامی اب صرف ایک نظریاتی جماعت نہیں رہی بلکہ وہ ایک ایسی بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے جو عوامی حمایت، تنظیمی ڈھانچے اور واضح پروگرام کے ساتھ اقتدار کے قریب دکھائی دیتی ہے۔ یہی مؤقف جماعت اسلامی بنگلادیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے بھی اپنے تازہ بیان میں دہرایا ہے۔جماعت اسلامی بنگلادیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ صرف ایک سال پہلے ہماری جماعت کو غیر اہم سمجھا جا رہا تھا اور آج جماعت اکثریت کے دہانے پر کھڑی ہے۔ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ یہ عوام کی مرضی ہے، جب عوام متحد ہو جائیں تو انہیں کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ہم نے کبھی دھونس یا جبر کا سہارا نہیں لیا، نہ آئندہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جعلی ووٹر نہیں اور نہ ہمیں دھاندلی کی ضرورت ہے۔ ہاں اگر کسی نے عوام کے ووٹ کو چرانے یا ان کے جمہوری حق سے انکار کی کوشش کی تو ہم عوام کے ساتھ مل کر اس حق کا دفاع کریں گے، جیسا کہ ہم نے جولائی 2024 میں کیا تھا۔مقامی سیاسی حلقوں اور عالمی سطح پر ڈاکٹر شفیق الرحمن کے اس بیان کو جماعت اسلامی کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور عوامی طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔جماعت اسلامی کا انتخابی منشور 88 صفحات پر مشتمل ہے جس میں ملک کو ایک کرپشن فری، فلاحی، انسانی اور انصاف پر مبنی ریاست میں تبدیل کرنے کا واضح منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ منشور وقتی نعروں یا غیر حقیقی وعدوں پر مبنی نہیں بلکہ قلیل، وسط اور طویل المدتی اہداف کے ساتھ تیار کی گئی ایک عملی دستاویز ہے۔منشور کے مطابق جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر حکمرانی کے نظام میں بنیادی اصلاحات کرے گی۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم کے دفتر میں غیر معمولی اختیارات کے ارتکاز نے ریاستی اداروں کو مفلوج کر دیا ہے۔جماعت وعدہ کرتی ہے کہ پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے گا۔ قانون سازی اور پالیسی سازی پارلیمنٹ کا اصل کام ہو گا۔ اپوزیشن کو پارلیمانی نگرانی میں مؤثر کردار دیا جائے گا۔ آئین کے آرٹیکل 70 میں ترمیم کر کے ارکانِ پارلیمنٹ کو آزادانہ رائے دینے کا حق دیا جائے گا۔جماعت اسلامی کے مطابق گزشتہ انتخابات میں عوام کے ووٹ کا حق پامال کیا گیا تھا۔ اس تناظر میں کیئر ٹیکر حکومت کے نظام کو مؤثر بنایا جائے گا۔ تناسبی نمائندگی (PR) متعارف کرائی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کو مکمل آئینی و مالی خودمختاری دی جائے گی۔ پولنگ اسٹیشنز میں سی سی ٹی وی اور شفاف نگرانی۔ انتخابی اخراجات کی سخت حد بندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔منشور میں کرپشن کو ریاستی زوال کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی نے زیرو ٹالرنس پالیسی، وزرا، ارکانِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ افسران کے اثاثوں کی عوامی تفصیل، غیر قانونی دولت کی ضبطی، سرکاری خدمات کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا بھی اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور سیاسی انتقام کے خاتمے کو ترجیح دی ہے۔ وعدوں میں پولیس اصلاحات، عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، نوآبادیاتی دور کے فرسودہ قوانین کا خاتمہ، گزشتہ 15 برس کے مظالم کی تحقیقات کے لیے ٹروتھ اینڈ ہیلنگ کمیشن شامل ہے۔جماعت اسلامی نے 2040ء تک بنگلادیش کو دو ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف رکھا ہے۔ معاشی منصوبے میں بینکنگ سیکٹر کی اصلاح، نان پرفارمنگ لونز میں کمی، سرمایہ کاری دوست ماحول، ٹیکس نظام میں شفافیت، مہنگائی پر قابو، بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع شامل ہیں۔منشور کے مطابق نوجوانوں کو ریاستی قیادت میں مرکزی مقام دیا جائے گا۔ اس حوالے سے وعدوں میں آئی ٹی، اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی میں تربیت، فری لانسنگ اور اسٹارٹ اپس کا فروغ، لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار، نوجوانوں کی کابینہ اور اداروں میں نمائندگی شامل ہے۔جماعت اسلامی نے خواتین کے حقوق کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنانے کا بھی اعلان کیا ہے، جن میں خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف خصوصی ٹریبونلز، محفوظ عوامی ٹرانسپورٹ، تعلیم اور معاشی خودمختاری، وراثت اور جائیداد میں حقوق کا تحفظ شامل ہیں۔تعلیم میں یکساں قومی معیار، مرحلہ وار مفت تعلیم، مدرسہ اور عصری نظام میں ہم آہنگی، نصاب میں اصلاح کا اعلان کیا گیا ہے۔یونیورسل ہیلتھ کیئر، بچوں اور بزرگوں کے لیے مفت علاج، سرکاری اسپتالوں کی بہتری، ہیلتھ انشورنس شامل ہیں۔جماعت اسلامی نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں کو مناسب قیمت، جدید زرعی ٹیکنالوجی، ملاوٹ سے پاک خوراک، 2030 تک زیرو ویسٹ اور زیرو فلڈ رسک کا ہدف شامل ہے۔خارجہ پالیسی میں قومی خودمختاری، ہمسایہ ممالک سے برابری، مسلم دنیا سے تعلقات، روہنگیا مسئلے کا منصفانہ حل پر زور دیا گیا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق جماعت اسلامی بنگلادیش کا انتخابی منشور ایسے وقت میں ایک روشنی کی صورت ابھرا ہے جب عوام برسوں سے روایتی اور انتقامی سیاست سے بیزار ہو چکے تھے۔بنگلادیش میں اس وقت تازہ صورت حال یہ ہے کہ ڈاکٹر شفیق الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی خود کو ایک کرپشن فری، عوامی اور اصولی قوت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر عوام نے مینڈیٹ دیا تو بنگلادیش کو ایک ایسا ملک بنایا جائے گا جہاں ووٹ باعزت، قانون بالادست اور ریاست عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔

نمائندہ خصوصی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلادیش ڈاکٹر شفیق الرحمن ہے جماعت اسلامی جماعت اسلامی نے کے طور پر کے مطابق شامل ہیں کے ساتھ جائے گا کیا گیا عوام کے کے لیے گیا ہے کو ایک

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔

این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔

دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار